سر داد گر نداد دست در دست یزید
الرسالہ، اکتوبر ۲۰۰۴
Politics is an art of bargaining, rather than an art of protesting and complaining. ایک بات یہ کہی گئی کہ جمہوری نظام میں کسی پارٹی کو سیاسی اچھوت بنانا کوئی مفید پالیسی نہیں۔ مزید یہ کہ الیکشن کے موقع پر لمبی مدت کے لیے کسی ملی مفاد کا حصول ممکن نہیں۔ ایسے موقع پر صرف محدود نوعیت کا کوئی مفاد حاصل کیا جا سکتا ہے۔ الیکشن کی اس نوعیت کو لوگ اپنے ذاتی مفاد کے معاملہ میں خوب جانتے ہیں اور اس کو استعمال کرتے ہیں۔ لیکن جب معاملہ ملی مفاد کا ہو تو ہر آدمی بڑی بڑی تقریر کرنے لگتا ہے۔ اس قسم کی تقریریں صرف مقرر کی غیر سنجیدگی کا ثبوت ہیں۔
۳۔ مسٹر عرفان احمد، ایم اے ایمسٹرڈم یونیورسٹی میں سوشل سائنس ریسرچ کے تحت ڈاکٹریٹ کا مقالہ لکھ رہے ہیں۔ اس سلسلہ میں وہ موجودہ زمانہ کے مسلم مفکرین کے نظریات و افکار کا مطالعہ کر رہے ہیں تا کہ اس کی روشنی میں اپنا مقالہ مرتب کریں۔ اس سلسلہ میں وہ ۲ مارچ ۲۰۰۴ کو نئی دہلی میں صدر اسلامی مرکز سے ملے اور موضوع سے متعلق اُن کا تفصیلی انٹرویو لیا۔ جوابات کا خلاصہ یہ تھا کہ موجودہ زمانہ کے مسلم مفکرین مثبت طرزِ فکر کے حامل نہ تھے، اُن کا فکر وقت کے سیاسی حالات کے ردِ عمل میں بنا۔ اس لیے یہ لوگ اسلام کی مثبت ترجمانی میں کامیاب نہ ہو سکے۔ سیاسی حالات ہمیشہ بدلتے رہتے ہیں۔ صحیح اسلامی تفکیر وہ ہے جو وقتی حالات سے متاثر ہوئے بغیر اسلام کی دوامی تعلیمات کی روشنی میں بنائی جائے۔ اپنے اسی منفی فکر کی بنا پر موجودہ زمانہ کے مسلم مفکرینِ اسلام کی کوئی مثبت خدمت نہ کر سکے۔ ۴۔ ای ٹی وی (نئی دہلی) نے ۱۱ مارچ ۲۰۰۴ کو صدر اسلامی مرکز کا ایک ویڈیو انٹرویو ریکارڈ کیا۔ ایک مفتی صاحب نے فتویٰ دیا ہے کہ جو مسلمان بندے ماترم میں شریک ہوں یا بی جے پی کا ساتھ دیں وہ خارج از اسلام ہیں۔ اس کے جواب میں صدر اسلامی مرکز نے کہا کہ اس قسم کا فتویٰ لا نکفر من اهل القبلہ کے خلاف ہے۔ کیوں کہ اہل قبلہ کی تکفیر جائز نہیں۔
۵۔ دہلی پریس پر کاشن لمیٹڈ (نئی دہلی) کی طرف سے ایک انگریزی میگزین الائیو (Alive) کے نام سے نکلتا ہے (اس کا سابقہ نام کارواں تھا) اس میگزین کے اسپیشل کرسپانڈنٹ مسٹر رام بلاس کمار نے ۱۱ مارچ ۲۰۰۴ کو صدر اسلامی مرکز کا تفصیلی انٹرویو لیا۔ سوالات کا تعلق زیادہ تر مسلم پالیٹکس سے تھا۔ جوابات کا خلاصہ یہ تھا کہ برصغیر ہند میں بدقسمتی سے ۱۰۰ سال سے بھی زیادہ مدت سے ایسے رہنما اٹھے جو صرف حالات کے ردعمل کی پیداوار تھے۔ چنانچہ ان کی سوچ منفی سوچ تھی۔ وہ ملت کو کوئی مثبت ایجنڈا نہ دے سکے۔ یہی وجہ ہے کہ مسلمان اب تک شکایت اور احتجاج کے احساس میں جیتے ہیں۔ الیکشن کے موقع پر وہ ہمیشہ نیگیٹو ووٹنگ کرتے ہیں۔ یعنی کسی پارٹی کو اینٹی مسلم پارٹی فرض کر کے اس کے خلاف ووٹ دینا۔ ہمارا مشن یہ ہے کہ ہم مسلمانوں کے اندر مثبت سوچ لائیں۔ دوسروں کی شکایت کے بجائے خود تعمیری کا مزاج پیدا کریں۔
‹ Previous page Next page › Contents of October 2004 All issues