Al-Risala · February 2004 · page 2

اتحاد میں کی مدد

الرسالہ، فروری ۲۰۰۴، صفحہ ۲

اتحاد میں کی مدد

ایک روایت کے مطابق، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم قال الله عز وجل : انا ثالث الشريكين مالم يخن احدهما صاحبه (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ میں دو شریکوں کے ساتھ تیسرا ہوتا ہوں، جب تک ان میں کا کوئی ایک ساتھی اپنے دوسرے ساتھی کے ساتھ خیانت نہ کرے۔

اس حدیث کو لفظی طور پر لیا جائے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ دو آدمی اگر خدا کے لیے آپس میں متحد ہو جائیں تو ان کے ساتھ خود خدا ایک تیسرے رکن کی حیثیت سے شریک ہو جاتا ہے اور جس اتحادی مجموعہ میں خود خدا شریک ہو جائے اس کی طاقت بلاشبہ بے پناہ حد تک بڑھ جاتی ہے۔ ان کا اتحاد ناقابل تسخیر حد تک مضبوط ہو جاتا ہے۔

یہ کوئی پراسرار بات نہیں۔ یہ ایک سادہ فطری حقیقت ہے۔ ایسا اس لیے ہوتا ہے کہ جب کچھ لوگ صرف اللہ کی خاطر متحد ہوں تو ان کی نفسیاتی حالت عام لوگوں سے مختلف ہو جاتی ہے۔ ایسے لوگوں کا حال یہ ہوتا ہے کہ وہ ہر معاملے کو اپنی ذات کی نظر سے دیکھنے کے بجائے خدا کی نظر سے دیکھنے لگتے ہیں۔ انہیں اگر اپنے ساتھی سے کوئی شکایت ہو تو وہ یہ سوچ کر اسے بھلا دیتے ہیں کہ میں تو خدا کے لیے متحد ہوا ہوں نہ کہ کسی انسان کے لیے۔ کسی موقع پر اگر ان کی انا کو چوٹ لگتی ہے تو وہ اس کا اثر نہیں لیتے کیوں کہ وہ پہلے ہی اپنی انا کو خدا کے لیے چھوڑ چکے ہوتے ہیں۔ اجتماعی زندگی میں انہیں کوئی نقصان پہنچاتا ہے تو وہ اس کی پروا نہیں کرتے۔ کیوں کہ ان کا ذہن یہ ہوتا ہے کہ میں نے آخرت کا فائدہ لینے کے لیے اس اتحاد میں شرکت کی ہے نہ کہ دنیا کا فائدہ لینے کے لیے۔

حقیقت یہ ہے کہ خدا کے لیے متحد ہونا اپنے آپ میں ایک طاقت ہے۔ خدا کے لیے متحد ہونے والے لوگوں میں وہ مزاج بن جاتا ہے جو اختلاف کا قاتل ہے۔ یہ ربانی مزاج اس بات کی ضمانت بن جاتا ہے کہ کوئی بھی اختلافی سبب ان کے اتحاد کو نہ توڑے ۔ وہ تمام اختلافات کو بھلا کر

‹ Previous page Next page › Contents of February 2004 All issues

Printed page