اتحاد میں کی مدد
الرسالہ، فروری ۲۰۰۴، صفحہ ۳
پوری مضبوطی سے اتحاد کی رسی کے ساتھ بندھے ہوئے رہیں۔
اتحاد کی یہ برکت اس وقت تک باقی رہتی ہے جب تک اتحادیوں میں خیانت کی ذہنیت نہ پیدا ہو۔ خیانت کیا ہے۔ خیانت یہ ہے کہ ایک شریک اتحاد دوسرے شریک اتحاد کا خیر خواہ نہ رہے، ایک شریک اتحاد، دوسرے شریک اتحاد کو غیر سمجھ لے۔ جب لوگوں میں یہ نفسیاتی برائی آجائے تو لوگوں کے دل ایک دوسرے سے دور ہو جاتے ہیں۔ ان میں ایک دوسرے کو اپنا سمجھنے کا مزاج باقی نہیں رہتا۔ وہ ایک دوسرے کو شک کی نظر سے دیکھنے لگتے ہیں۔ جب ایسا ہو جائے تو ان کے اتحاد کی تمام اینٹیں ہل جاتی ہیں۔ ان کا آپس کا جوڑ ختم ہو جاتا ہے۔ اتحاد کے افراد پہلے اگر جمی ہوئی اینٹوں کے مانند تھے تو اب وہ بکھری ہوئی اینٹوں کے مانند ہو جاتے ہیں۔ اب ان کا اتحاد بھی ختم ہو جاتا ہے اور ان کی طاقت بھی۔ اتحاد پیدا ہونا نہایت آسان ہے، مگر اتحاد کو باقی رکھنا اتنا ہی مشکل ہے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ اتحاد کے بعد لازماً آپس میں شکایتیں پیدا ہو جاتی ہیں۔ ایک کو دوسرے سے نقصان پہنچتا ہے۔ اب لوگوں کے لیے دو راستے ہوتے ہیں۔ ایک خیانت کا اور دوسرا اخلاص کا۔ اتحادی افراد میں جب خیانت کا مزاج آجائے تو ان کی شکایتیں بڑھتی رہیں گی۔ یہاں تک کہ ان کا اتحاد ٹوٹ پھوٹ کر ختم ہو جائے گا۔ اس کے برعکس جب لوگوں میں اخلاص کا مزاج ہو تو ہر شکایت پیدا ہوتے ہی وہ ختم ہو جائے گی۔ کوئی بھی شکایت اختلاف کے درجے تک نہ پہنچے گی۔
‹ Previous page Next page › Contents of February 2004 All issues