Al-Risala · October 2004 · page

سر داد گر نداد دست در دست یزید

الرسالہ، اکتوبر ۲۰۰۴

پالیسی کا مسئلہ ہے۔ اس طرح کے معاملات میں قومی پالیسی ہی مسلمانوں کی بھی پالیسی ہے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ مسلمانوں کا اصل مسئلہ تعلیم میں جکڑاپن ہے۔ بقیہ مسائل اپنے آپ حل ہو جائیں گے۔ ۳۵۔ ستمبر ۲۰۰۲ کو دہلی میں وائس پریذیڈنٹ بھیروں سنگھ شخاوت کی رہائش گاہ پر ایک خصوصی فنکشن ہوا۔ اس میں وزیر اعظم ڈاکٹر من موہن سنگھ، وائس پریذیڈنٹ بھیروں سنگھ شخاوت اور ہوم منسٹر شیوراج پاٹل وغیرہ شریک ہوئے۔ اس فنکشن میں تین آدمیوں کو کمیونل ہارمنی کا ایوارڈ دیا گیا۔ ان میں سے ایک ڈاکٹر سبارا و تھے۔ اس کی دعوت پر صدر اسلامی مرکز نے اس میں شرکت کی اور موقع کی مناسبت سے کچھ کلمات کہے۔

۳۶۔ دینک بھاسکر (نئی دہلی) کے نمائندے مسٹر رجت کمار نے ۱۲ ستمبر ۲۰۰۲ کو صدر اسلامی مرکز کا انٹرویو لیا۔ سوالات کا تعلق مسلم مسائل سے تھا۔ صدر اسلامی مرکز نے ایک سوال کے جواب میں بتایا کہ مسلمانوں کے تمام مسائل کی جڑ تعلیم ہے۔ اگر مسلمانوں میں تعلیم پھیل جائے تو بقیہ تمام مسئلے اپنے آپ حل ہو جائیں گے۔ تعلیم سے سمجھ آتی ہے اور مسائل کو حل کرنے کے لیے سب سے زیادہ ضرورت سمجھداری کی ہے۔

۳۷۔ نئی دہلی کے زی نیوز (Zee News) کے اسٹوڈیو میں ۱۵ ستمبر ۲۰۰۲ کو ایک پینل ڈسکشن ہوا۔ اس کے اینکر مسٹر یوسف انصاری تھے۔ اس کی دعوت پر صدر اسلامی مرکز نے اس میں شرکت کی۔ اس کا موضوع فیملی پلاننگ اور مسلمان تھا۔ انہوں نے بتایا کہ فیملی پلاننگ کا مسئلہ کوئی شرعی مسئلہ نہیں ہے۔ اس کا تعلق ملکی حالات اور نیشنل پالیسی سے ہے۔ مسلمان حسب ضرورت اس کو اختیار کر سکتے ہیں۔

۳۸۔ ای ٹی وی (نئی دہلی) کے اسٹوڈیو میں ۱۵ ستمبر ۲۰۰۲ کو ایک پینل ڈسکشن ہوا۔ اس کے اینکر مسٹر جاوید نقوی تھے۔ صدر اسلامی مرکز نے اس کی دعوت پر اس میں شرکت کی۔ اس کا موضوع برتھ کنٹرول اور مسلمان تھا۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ قرآن اور حدیث میں برتھ کنٹرول کی کوئی ممانعت موجود نہیں۔ بلکہ صحیح بخاری اور دوسری کتابوں میں یہ روایات آئی ہیں کہ صحابہ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں عزل کرتے تھے اور ہمیں اس سے روکا نہیں گیا۔ عزل برتھ کنٹرول کا قدیم فطری طریقہ ہے۔ ایسی حالت میں برتھ کنٹرول کو ناجائز بتانا ایک بے دلیل بات ہے۔ اسلام میں پوپ ڈم یا برہمن واد نہیں ہے کہ کوئی شخص اپنی طرف سے کسی چیز کو حرام یا حلال قرار دے۔

۳۹۔ انڈیا ٹی وی (نئی دہلی) کی ٹیم نے ۱۵ ستمبر ۲۰۰۲ کو صدر اسلامی مرکز کا ویڈیو انٹرویو ریکارڈ کیا۔ اس کے انٹرویو رسٹر کرشن موہن مشرا تھے۔ اس انٹرویو کا موضوع فیملی پلاننگ اور اسلام تھا۔ جوابات کے ذیل میں بتایا گیا کہ موجودہ زمانہ میں مسلمانوں کا عام رجحان یہ ہو گیا ہے کہ وہ ہر نئی چیز کے بارہ میں فوراً منفی رائے قائم کر لیتے ہیں۔ چنانچہ شروع شروع میں جب لاؤڈ اسپیکر آیا تو اس کو نا جائز بتایا گیا۔ یہی معاملہ برتھ کنٹرول کے ساتھ پیش آیا۔ حالاں

‹ Previous page Next page › Contents of October 2004 All issues

Printed page