Al-Risala · November 2004 · page 3

خدا اور بندہ

الرسالہ، نومبر ۲۰۰۴، صفحہ ۳

خدا اور بندہ

علی بن ربیعہ کہتے ہیں کہ میں نے علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کو دیکھا۔ ان کے پاس سواری کے لیے ایک جانور لایا گیا۔ جب انھوں نے اپنا پاؤں اس کے رکاب میں رکھا تو کہا بسم اللہ۔ پھر جب وہ اس کی پیٹھ پر بیٹھ گئے تو کہا الحمدللہ، سبحان الذی سخر لنا هذا وما كنا له مقرنين وانا الى ربنا لمنقلبون۔ اس کے بعد انھوں نے تین بار اللہ کی حمد کی اور تین بار اللہ کی تکبیر کی۔ پھر کہا: سبحانك لا اله الا انت قد ظلمت نفسی فاغفرلی۔

راوی کہتے ہیں کہ اس کے بعد حضرت علی ہنس پڑے۔ میں نے پوچھا کہ اے امیر المومنین، آپ کس بات پر ہنسے۔ انھوں نے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ہے کہ آپ نے سوار ہوتے ہوئے وہی کہا جو میں نے کہا۔ پھر آپ ہنس پڑے۔ میں نے پوچھا کہ اے خدا کے رسول، آپ کیوں ہنسے ۔ آپ نے فرمایا :

يعجب الرب تبارك وتعالى من عبده اذا قال بندہ جب کہتا ہے کہ اے میرے رب، مجھے بخش رب اغفرلی۔ ویقول علم عبدی انه لا يغفر دے تو اللہ تعالی اس پر تعجب کرتا ہے اور خوش الذنوب غیری۔ ہوتا ہے۔ وہ فرماتا ہے کہ میرے بندہ نے اس (تفسیر ابن کثیر ۲/ ۱۲۳) کو جانا کہ میرے سوا کوئی بھی گناہوں کو بخشنے والا نہیں۔ رَبِّ اغْفِرْلِی (میرے رب، مجھے بخش دے) کہنا کوئی سادہ سی بات نہیں۔ یہ ایک عظیم ترین دریافت کے نتیجہ میں نکلنے والا کلمہ ہے جو ایک مومن کی زبان سے نکل پڑتا ہے۔ یہ کلمہ کسی کی زبان سے اس وقت نکلتا ہے جب کہ وہ غیب کے پردے کو پھاڑ کر خدا کی موجودگی کو دریافت کرے یہ آزادی کے باوجود اس بات کا اقرار ہے کہ میں اپنی آزادی کو بے قید استعمال کرنے کا حق نہیں رکھتا۔ یہ حشر کو دیکھے بغیر حشر کے واقعہ پر یقین لانا ہے۔ یہ اعمال کے اخروی نتائج کی حقیقت کا اس وقت اقرار کرنا ہے جب کہ ابھی وہ ظاہر نہیں ہوئے۔ یہ خدا کے ظہور سے پہلے خدا کے جلال و جبروت کے آگے جھک جانا ہے۔ یہ کلمہ معرفت کا کلمہ ہے، اور معرفت بلاشبہ اس دنیا کا سب سے بڑا عمل ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of November 2004 All issues

Printed page