لاء لیش الا عیش الا الآخرہ
الرسالہ، نومبر ۲۰۰۴، صفحہ ۴
لاء لیش الا عیش الا الآخرہ
قرآن میں مختلف انداز سے جنت کی راحتوں سے بھری ہوئی زندگی کا تعارف کرایا گیا ہے۔ ایک مقام پر جنت کی نعمتوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا گیا ہے : نعم الثواب وحسنت مرتفقا (وہ کیسا اچھا انعام ہے اور کیسی اچھی رہنے کی جگہ) الکہف ۲۱ ہر آدمی خوشی اور آرام کی زندگی چاہتا ہے۔ وہ دیکھتا ہے کہ دنیا میں ہر طرف خوشی اور آرام کے سامان پھیلے ہوئے ہیں۔ وہ اپنی پوری طاقت ان چیزوں کو حاصل کرنے میں لگا دیتا ہے۔ مگر جب وہ ان چیزوں کو حاصل کر لیتا ہے تو اس پر ایک نئی حقیقت منکشف ہوتی ہے۔ اب وہ جانتا ہے کہ راحت کے ہر قسم کے سامان کے باوجود وہ راحت کی زندگی سے محروم ہے۔ اس دنیا میں آدمی کو سامانِ راحت کو تلاش کرنے کی خوشی تو ملتی ہے مگر سامانِ راحت سے متمتع ہونے کی خوشی کسی کو حاصل نہیں ہوتی۔
اس کی وجہ یہ ہے کہ موجودہ دنیا میں راحت کا صرف تعارف ہے ، راحت سے تمتع (enjoyment) موجودہ دنیا میں کسی کے لیے ممکن نہیں۔ راحت سے متمتع ہونے کے لیے ایک کامل دنیا درکار ہے۔ موجودہ دنیا ایک ناقص دنیا ہے ، اس لیے یہ ممکن ہی نہیں کہ کوئی شخص یہاں راحت سے متمتع ہو سکے۔
آدمی کے اس مطلوب کو پانے کا مقام صرف آخرت ہے۔ آخرت ایک کامل دنیا ہوگی۔ وہاں راحت کے تمام سامان اپنی آخری معیاری صورت میں فراہم کیے جائیں گے۔ یہ دنیا وقتی نہیں ہوگی بلکہ ابدی ہوگی۔ اسی کے ساتھ خود انسان کی وہ تمام محدودیتیں (limitations) ختم کردی جائیں گی جو سامانِ راحت سے حقیقی تمتع میں رکاوٹ بن جاتی ہیں۔ ان انتظامات کے بعد پہلی بار انسان کے لیے یہ ممکن ہو جائے گا کہ وہ اپنی پسند کی زندگی کو بھر پور طور پر پا سکے۔ آخرت کے لیے عمل کرنا اس شخص کے لیے ممکن ہوتا ہے جو حقائق مادی کے بجاے حقائق معنوی کو اہمیت دے۔ جو دکھائی دینے والی چیزوں سے گزر کر نہ دکھائی دینے والی چیزوں میں جی لگائے۔ جو آج کے فائدے کے مقابلے میں کل کے فائدہ کو ترجیح دے۔ جو اپنی ذات میں گم ہونے کے بجاے خدا میں گم ہو جائے۔
‹ Previous page Next page › Contents of November 2004 All issues