انسان کدھر
الرسالہ، نومبر ۲۰۰۴، صفحہ ۷
سفری کلاس (Class on wheels)
۳ جون ۲۰۰۲ کو کچھ لوگوں کے ساتھ ایک سفر ہوا۔ یہ عام سفروں سے مختلف ایک سفر تھا۔ زیادہ درست طور پر اس کو سفری کلاس (class on wheels) کہہ سکتے ہیں۔ یہ سفر بلند شہر کے علاقہ میں ہوا۔
بلند شہر دہلی کے جنوب مشرقی سمت میں واقع ہے۔ یہ علاقہ ۱۰۱۸ میں ہندو راجہ کے قبضہ سے نکل کر محمود غزنوی کے قبضہ میں آیا۔ اس کے بعد اس علاقہ میں لڑائی ہوئی اور وہ مغل سلطنت کے دائرہ میں آگیا۔ ۱۸۰۵ میں وہ برٹش انڈیا کا ایک حصہ بنا۔
The area passed from a Hindu raja to Mahmud of Ghazna in 1018, was fought over during the 14th century and then fell under Mughal rule. In 1805 it became part of British India. اس سفر کا محرک مسٹر کرپال سنگھ (۶۱ سال) تھے۔ کر پال سنگھ بسوری ضلع بلند شہر کے رہنے والے ہیں۔ یہ مقام دہلی سے ۷۰ کلومیٹر کے فاصلہ پر جی ٹی روڈ پر واقع ہے۔ کرپال سنگھ پہلے فوج میں تھے۔ پھر وہ پولیس کی ملازمت میں بھرتی ہوئے۔ پچھلے سال وہ ہیڈ کانسٹیبل کی حیثیت سے ریٹائر ہوئے۔ ان کی ڈیوٹی دہلی میں تھی اور وہ اکثر ہمارے یہاں آتے جاتے تھے۔ ان کی دیانت داری اور فرض شناسی اور انسانیت کی وجہ سے مجھے ان سے کافی دلچسپی ہوگئی۔
۳ جون کو ان کی لڑکی نیتو رانی کی شادی تھی۔ مسٹر کرپال سنگھ نے انتہائی عقیدت کے ساتھ مجھے اس تقریب میں شرکت کی دعوت دی۔ اس وقت ان کے دل کی کیفیت یہ تھی کہ جب انھوں نے چھپا ہوا کارڈ مجھے دیا تو ان کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔ مجھے ان کا دل توڑنا گوارا نہیں ہوا۔ چنانچہ میں نے وعدہ کر لیا کہ میں انشاء اللہ آپ کی تقریب میں شرکت کروں گا۔ اس کے مطابق، ۳ جون ۲۰۰۲ کی صبح میں یہ سفر ہوا اور اسی دن شام کو واپسی ہوئی۔
‹ Previous page Next page › Contents of November 2004 All issues