Al-Risala · November 2004 · page 8

These books do not address our mind

الرسالہ، نومبر ۲۰۰۴، صفحہ ۸

پچھلے چار سال سے میں دہلی میں ایک کلاس چلا رہا ہوں جس کا نام اسپرپچول کلاس (spiritual class) ہے۔ اس کلاس میں انگریزی تعلیم یافتہ ہندو اور مسلمان شریک ہوتے ہیں۔ ہماری اس کلاس کے ممبران کو معلوم ہوا تو ان میں سے کئی لوگ میرے ساتھ جانے کے لئے تیار ہو گئے۔ کیوں کہ ان کی کوشش یہ ہوتی ہے کہ جب وہ میرے ساتھ ہوں تو وہ میری ہر بات کو نوٹ کریں۔ چنانچہ یہ سفر ایک نئے قسم کا سفر بن گیا۔ اس کو سفری کلاس (class on wheels) کہا جا سکتا ہے۔ اسپرپچول کلاس دراصل ایک خاص تصور اصلاح پر قائم ہے۔ اس کا آغاز اس طرح ہوا کہ دہلی کے کچھ انگریزی یافتہ ہندو نوجوانوں کے اندر اسلام کو سمجھنے کا شوق پیدا ہوا۔ وہ انگریزی زبان میں اسلامی لٹریچر چاہتے تھے۔ ان کو دہلی کے کسی مسلمان نے بتایا کہ تم لوگ جماعت اسلامی کے دفتر جاؤ، وہاں تم کو اپنے مقصد کے مطابق کتابیں مل جائیں گی۔ چنانچہ وہ جماعت اسلامی کے مرکزی دفتر گئے اور وہاں کے ذمہ داروں سے ملے۔ انھوں نے ان ہندو نوجوانوں کو ۱۵ کتابیں دیں۔ یہ مولانا ابوالاعلیٰ مودودی کی کتابوں کا انگریزی ترجمہ تھا۔ ان کتابوں کو پڑھنے کے بعد وہ دوبارہ جماعت اسلامی کے ذمہ داروں سے ملے۔ انھوں نے انھیں بتایا کہ آپ کی یہ کتابیں ہم نے پڑھیں مگر یہ کتابیں ہمارے مائنڈ(mind) کو ایڈریس نہیں کرتیں۔

These books do not address our mind

انھوں نے کہا کہ یہ کتابیں مسلم مائنڈ کو سامنے رکھ کر لکھی گئی ہیں جو پہلے ہی سے بطور عقیدہ اسلام کی سچائی کو مانتے ہیں۔ جب کہ ہمارا کیس یہ ہے کہ ہم اسلام کی سچائی کو بطور عقیدہ نہیں بلکہ بطور دلیل آبجیکٹیو طور پر سمجھنا چاہتے ہیں۔ ہم سچائی کے متلاشی ہیں اور ہم نے دوسرے مذہبوں اور فلسفوں کو پڑھا ہے اور اب ہم اسلام کو اس حیثیت سے پڑھنا چاہتے ہیں کہ کیا وہ عقلی بنیاد پر پورا اتر رہا ہے یا دوسرے مذہبوں کی طرح وہ بھی ایک عقیدہ(dogma) کی حیثیت رکھتا ہے۔

یہ نوجوان وہاں سے مایوس ہو کر واپس ہو گئے۔ پھر ان کی ملاقات جمیل احمد الیاس سے ہوئی۔ انھوں نے کہا کہ میرے علم کے مطابق، دنیا میں صرف ایک ہی مسلم عالم ہے جس کی کتاب تم

‹ Previous page Next page › Contents of November 2004 All issues

Printed page