Al-Risala · November 2004 · page 26

hammering, hammering, hammering.....

الرسالہ، نومبر ۲۰۰۴، صفحہ ۲۶

تا کہ راستہ میں ان کا اجتماعی مطالعہ کیا جا سکے ۔ وہ اخبارات یہ تھے ٹائمس آف انڈیا ، ہندوستان ٹائمس، پنجاب کیسری، راشٹریہ سہارا، ہند سماچار، اخبار مشرق، عوام۔ آج کے ٹائمس آف انڈیا میں حسب معمول جو قول نقل کیا گیا تھا وہ مسٹر جے این دشت کا ایک قول تھا۔ انہوں نے انڈیا اور پاکستان کو بہتر بنانے کے سلسلہ میں کہا کہ : اس سلسلہ میں جو چیز ضروری ہے وہ ہے بات چیت جاری رکھنے کا عزم پاکستان کے ساتھ اور ٹکراؤ کو اوائڈ (avoid) کرنے کی پالیسی اختیار کرنا :

What is needed in a determination to continue the dialogue (with Pakistan) and a policy to avoid confrontation. یہ بات انڈیا اور پاکستان دونوں ملکوں کے ذمہ دار مختلف الفاظ میں کہتے رہے ہیں۔ اس کے باوجود کیا وجہ ہے کہ نصف صدی سے بھی زیادہ مدت گزرنے کے بعد بھی دونوں کے درمیان معتدل تعلقات قائم نہیں ہوئے ۔ اس کا سبب میرے نزدیک یہ ہے کہ دونوں ملک اس مسئلہ کو دو طرفہ بنیاد (bilateral basis) پر حل کرنا چاہتے ہیں جب کہ تجربہ بتاتا ہے کہ نزاعی مسائل یا تو یک طرفہ بنیاد پر حل ہوتے ہیں، یا پھر کبھی حل نہیں ہوتے۔

ٹائمس آف انڈیا ۳ جون (صفحہ (۱۰) پر ایک دلچسپ تصویر تھی۔ یہ امریکہ کے صدر جارج بش کے بارے میں تھی۔ اس میں ان کے ایک واقعہ کا ذکر تھا جس کو چار مختلف تصویروں میں نمایاں کیا گیا تھا ۔ اس کے نیچے یہ لکھا ہوا تھا :

President Bush is caught in a rain storm with a faulty umbrella while walking from Marino One to Air Force One at Andrews Air Force Base in Maryland on June 2. یعنی صدر بش ایک طوفان میں پھنس گئے ۔ وہ اس وقت ایک چھتری لئے ہوئے تھے ۔ چھتری کو وہ مضبوطی کے ساتھ اپنے ہاتھ سے پکڑے ہوئے ہیں مگر وہ تیز ہوا میں الٹ گئی۔ صدر بش کے ساتھ عراق میں جو کچھ ہو رہا ہے اس کی یہ گویا ایک تمثیل ہے۔ وہ سمجھتے تھے

‹ Previous page Next page › Contents of November 2004 All issues

Printed page