hammering, hammering, hammering.....
الرسالہ، نومبر ۲۰۰۴، صفحہ ۲۵
(الحشر (۲) اس آیت میں واضح ہے کہ عبرت پذیری کا مرکز آنکھ نہیں ہے بلکہ ذہن ہے۔ آنکھ سے آدمی صرف دیکھتا ہے مگر دیکھی ہوئی چیز کو عبرت میں ڈھالنا تمام تر عقل کا کام ہے۔ قرآن کی اس آیت میں بصارت کا لفظ ادبی معنوں میں ہے۔ اسی طرح قلب کا لفظ بھی جہاں قرآن میں اس مفہوم میں آیا ہے وہ ادبی معنوں میں آیا ہے نہ کہ علمی معنوں میں۔
میں نے ۳ جون کی صبح کو بی بی سی لندن (BBC London) کا پروگرام (programme) سنا۔ اس کا ایک آئٹم یہ تھا کہ انھوں نے بتایا کہ لندن میں ایک آیوردیک یونیورسٹی (Ayurvedic University) بنائی جارہی ہے۔ اس کے فاؤنڈر (founder) نے بتایا کہ اس یونیورسٹی کا ایک سبجیکٹ آرت آف اسپرچول مینجمنٹ (art of spiritual management) ہوگا۔ انھوں نے بتایا کہ مغربی ملکوں میں لوگوں نے ہر قسم کا مادی سامان حاصل کر لیا ہے۔ پہلے وہ سمجھتے تھے کہ مادی ترقی ان کو پوری خوشی دے گی۔ مگر جب ساری مادی چیزیں مل گئیں تو انھیں محسوس ہوا کہ انھیں سچی خوشی حاصل نہیں ہوئی۔ اس لئے اب وہ کسی اور چیز کی تلاش میں ہیں۔ آیوردیک یونیورسٹی ان کی اس تلاش کا جواب ہوگی۔
میں نے کہا کہ میرے نزدیک یہ ایک غلطی کے بعد دوسری غلطی کرنا ہے۔ جہاں تک میں جانتا ہوں ان لوگوں کا ماننا یہ ہے کہ روز مرہ کے کام میں انسان کا مائنڈ (mind) زہریلا (toxicated) ہو جاتا ہے، یعنی مائنڈ میں ایک قسم کا زہر بھر جاتا ہے۔ ان کا کہنا یہ ہے کہ ہم نے مائنڈ کو ڈی ٹاکسیفائی (detoxify) کرنے کے لئے ایک تکنیک بنائی ہے۔ اس تکنیک کے ذریعہ ذہن دوبارہ معتدل ہو جاتا ہے۔ یہ تکنیک ایک خاص طریقہ پر سانس کو اندر لے جانے اور باہر نکالنے پر قائم ہے۔ میں نے کہا کہ یہ ایک بالکل غیر متعلق بات ہے۔ ذہنی تناؤ ایک ایسا پرابلم ہے جو سوچ (thinking) سے تعلق رکھتا ہے۔ جب کہ ایک خاص طریقہ سے سانس لینا اور نکالنا ایک جسمانی واقعہ ہے۔ اور جسمانی تدبیر سے کبھی دماغ کی اصلاح نہیں ہو سکتی۔
سفر پر روانہ ہوتے ہوئے ہم نے آج (۳ جون ۲۰۰۳) کے اخبارات اپنے ساتھ رکھ لئے
‹ Previous page Next page › Contents of November 2004 All issues