Al-Risala · November 2004 · page 28

کجا کارے کند عاقل که باز آید پشیمانی

الرسالہ، نومبر ۲۰۰۴، صفحہ ۲۸

کہ عراق کا معاملہ مکمل طور پر ان کے کنٹرول میں ہے مگر ان کی ساری کوشش، بے شمار جانی اور مالی قربانی کے باوجود یہ معاملہ ان کے ہاتھ سے اس طرح نکل گیا کہ انہیں ویتنام کی مانند عراق سے واپسی کا فیصلہ کرنا پڑا۔ یہی معاملہ موجودہ دنیا میں ہر شخص کا ہے۔ آدمی جوش میں آ کر ایک اقدام کرتا ہے ۔ وہ سمجھتا ہے کہ حالات مکمل طور پر اس کے کنٹرول میں رہیں گے مگر آخر کار حالات اس کے قبضہ سے نکل جاتے ہیں اور وہ اس فارسی شعر کی تصویر بن جاتا ہے کہ عقل مند آدمی ایسا کام کیوں کرے جس کا نتیجہ شرمندگی ہو:

کجا کارے کند عاقل که باز آید پشیمانی

آج ۳ جون کی صبح کو حسب معمول میں نے بی بی سی لندن کا پروگرام سنا۔ اس میں صدر امریکا جارج بش کی ایک تقریر سنائی گئی۔ اس تقریر میں پریزیڈنٹ بش جوش کے ساتھ کہہ رہے تھے کہ ہم کو آزاد دنیا بنانا ہے اور ٹررزم کو ختم کرنا ہے مگر یہ کوئی آسان منصوبہ نہیں۔ ٹررزم کے خلاف ہماری لڑائی صدیوں تک جا سکتی ہے۔

یہ مایوسی کا کلمہ ہے۔ جب کوئی آدمی ایک بلند بانگ منصوبہ بنائے اور پھر وہ اس میں ناکام ہو جائے تو وہ اسی قسم کے الفاظ بولتا ہے۔ مثلاً نام نہاد اسلام پسند لیڈر جو مسلم ملکوں کے بارے میں کہتے تھے کہ یہ خطہ اسلام کے لئے الاٹ ہو چکا ہے اور ہم یہاں اسلامی حکومت قائم کر کے رہیں گے۔ پھر دھواں دار کوششوں کے باوجود جب ان کا منصوبہ ناکام ہو گیا تو اب وہ کہتے ہیں کہ اسلامی نظام کا قیام چند دن میں نہیں ہو سکتا، اس کے لئے صدیوں کی کوشش درکار ہے۔ کتنی مشابہت ہے غیر اسلام کے علم برداروں اور اسلام کے علم برداروں میں۔

ٹائمس آف انڈیا (۳ جون ۲۰۰۲) کے صفحہ اول پر ایک خبر ڈاکٹر جے ایس راجپوت کے بارے میں تھی۔ پچھلے سالوں میں وہ سیکولر لوگوں میں اور مسلمانوں میں کافی بدنام ہوئے تھے۔ ان کو پچھلی حکومت کے زمانہ میں این سی ای آرٹی (NCERT) کا ڈائرکٹر بنایا گیا تھا۔ ان پر یہ الزام تھا کہ وہ اسکول کی نصابی کتابوں کا بھگوا کرن کر رہے ہیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of November 2004 All issues

Printed page