کجا کارے کند عاقل که باز آید پشیمانی
الرسالہ، نومبر ۲۰۰۴، صفحہ ۲۹
خبر میں بتایا گیا تھا کہ نئی گورنمنٹ کے آنے کے بعد انھوں نے پیشگی ریٹائر منٹ لے لیا۔ حکومت ان کی جگہ دوسرا ڈائرکٹر تلاش کر رہی ہے۔ مجھے یاد آیا کہ یہی ڈاکٹر راجپوت تھے جنھوں نے اپنے ادارہ (NCERT) میں ۲۱ مئی ۲۰۰۳ کو خصوصی اہتمام کے ساتھ اسلام کے موضوع پر میرا ایک خطاب رکھا تھا۔ اس پروگرام میں این سی ای آر ٹی کا ہال مکمل طور پر بھرا ہوا تھا۔ اس میں ۹۹ فیصد تعداد تعلیم یافتہ ہندوؤں کی تھی۔ اس تقریر کے آخر میں ڈاکٹر راجپوت نے اپنے اختتامی خطاب میں میری تقریر کو کافی پسند کیا اور اسٹیج سے انھوں نے اعلان کیا کہ مولانا، ہمیں اسلام کی مثبت تعلیمات پر ایک کتاب تیار کر کے دیں اس کو ہم سارے انڈیا میں پھیلائیں گے۔ میں نے احادیث کی بنیاد پر ۵۰ صفحہ کی ایک کتاب تیار کی ۔ یہ وہی کتاب ہے جو ماہنامہ الرسالہ (اکتوبر ۲۰۰۳) میں خصوصی شمارہ کے طور پر چھپی ہے۔ ڈاکٹر راجپوت اس کو اپنے ادارہ کی طرف سے چھپوانا چاہتے تھے مگر شاید انھیں اس کا موقع نہیں ملا۔ ہر واقعہ میں قرآن کے مطابق ، عسر کے ساتھ یسر کا پہلو ہوتا ہے۔ ہر مائنس پوائنٹ میں ایک پلس پوائنٹ موجود رہتا ہے جیسا کہ مذکورہ واقعہ سے ظاہر ہو رہا ہے۔ جن لوگوں کا ذہن اسلام کی اس تعلیم سے بنے وہ کسی غیر مطلوب چیز کے پیش آنے پر نہیں گھبرائیں گے ، وہ غیر موافق میں کوئی موافق پہلو تلاش کر لیں گے۔
روزنامہ راشٹریہ سہارا (۳ جون ۲۰۰۴) میں صفحہ ۳ پر ایک مضمون مسلمانوں کے مسائل کے بارہ میں چھپا ہوا تھا۔ اس کا عنوان یہ تھا: مسلمانوں کو فراموش کرنے کی کوشش ۔ اس مضمون کا ایک حصہ یہ تھا:
" نئے وزیر اعظم ہند نے اپنی اولین ترجیح کے طور پر اعلان کیا تھا کہ اب ۱۹۸۲ کے سکھ فسادات اور گجرات کے مسلم کش فسادات) کا اعادہ نہیں ہونے دیا جائے گا۔ اس کے چند دنوں کے بعد وہ نکات سامنے آئے جن کی بنیاد پر مشتر کہ پروگرام (CMP) کی تشکیل ہونی تھی۔ ان نکات میں یہ نکتہ بہت اہم تھا کہ فساد زدگان کو یکساں معاوضہ دیا جانا چاہئے۔ یہ اس لئے اہم تھا کہ ۱۹۸۲ کے سکھ
‹ Previous page Next page › Contents of November 2004 All issues