Art of problem management
الرسالہ، نومبر ۲۰۰۴، صفحہ ۴۱
سے جانتا کہ ایسا ہونے والا ہے تو وہ اس کو کرائسس کے روپ میں نہ لیتا بلکہ وہ ایسا پیش آنے پر کہتا کہ یہ تو وہی ہے جو ہونے والا تھا، پھر اس پر پریشان ہونے کی کیا ضرورت۔
وہ چیز جس کو کرائسس مینجمنٹ (crisis management) کہا جاتا ہے وہ دراصل خود اپنی سوچ کی مینجمنٹ (thought management) کا دوسرا نام ہے۔ اپنی سوچ کو مینیج (manage) کیجئے اور پھر آپ کبھی کرائسس کے مسئلہ سے دوچار نہیں ہوں گے۔
فریدہ خانم نے کہا کہ میرا سوال یہ ہے کہ اپنی ایگو (ego) کو کیسے ختم کیا جائے۔ (How to annihilate one's ego) میں نے کہا کہ ایگو (ego) وہی چیز ہے جس کو اردو میں انا کہا جاتا ہے۔ قرآن میں اس کو نفسِ امارہ بتایا گیا ہے۔ قرآن میں پیغمبر یوسف کا ایک قول نقل کیا گیا ہے جس میں وہ کہتے ہیں کہ میں اپنے نفس کی برأت نہیں کرتا (یوسف ۵۳)۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ ایگو یا انا ہر آدمی کی ذات کا ایک پیدائشی حصہ ہے۔ کوئی آدمی بغیر انا کے اس دنیا میں نہیں ہو سکتا۔ آدمی کا کمال یہ نہیں کہ وہ بے انا ہو۔ آدمی کا کمال یہ ہے کہ وہ اپنے آپ کو عملی طور پر انا کا شکار نہ ہونے دے۔ وہ انا کے ہوتے ہوئے بے انا بن جائے۔
منجو درمانی نے کہا کہ میرا سوال یہ ہے کہ بنا کسی ڈسٹرکشن (distraction) کے ایک کام میں کیسے دھیان لگائیں۔ میں نے کہا کہ اگر آپ ایک ایسی دنیا چاہتے ہیں جہاں آپ کو کوئی ڈسٹرکشن کبھی نہ ہو تو آپ کسی سنسان آئلینڈ (Island) میں چلے جائیے مگر یاد رکھیے کہ وہاں بھی آپ کے لئے ایک پرابلم موجود ہے۔ وہ یہ کہ وہاں کوئی سوسائٹی (society) نہیں اور سوسائٹی کے بغیر جینا اس سے بھی زیادہ مشکل ہے جتنا کی ٹینشن (tension) کے ساتھ جینا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جس دنیا میں آپ ہیں وہاں آپ کو ہر حال میں پرابلم کے بیچ میں رہنا ہے۔ اس لئے یہاں یہ سوچنا چھوڑ دیجئے کہ آپ کو پرابلم فری لائف (problem free life) مل جائے گی بلکہ آپ کو پرابلم کے ساتھ جینے کا ہنر سیکھنا ہوگا۔ یعنی آپ کو وہ چیز سیکھنی چاہئے جس کو میں ان الفاظ میں کہتا ہوں:
Art of problem management
‹ Previous page Next page › Contents of November 2004 All issues