Al-Risala · November 2004 · page 40

رب افتح لی أبواب رحمتك

الرسالہ، نومبر ۲۰۰۴، صفحہ ۴۰

وہ کاربن مونو آکسائڈ (carbon monoxide) نکالتا ہے جو انسانی ہیلتھ (health) کو نقصان پہنچاتا ہے۔ اس کے حل کے لئے ایک ڈوائس (device) بنائی گئی ہے۔ وہ یہ کرتی ہے کہ کار کے انجن سے نکلی ہوئی کاربن مونو آکسائڈ گیس (carobon monooride gas) کو کاربن ڈائی آکسائڈ گیس میں کنورٹ (convert) کر دیتی ہے جو کہ ہیلتھ کو نقصان نہیں پہنچاتی۔ تمام ترقی یافتہ ملکوں میں یہ طریقہ اپنایا گیا ہے۔ یہی آزمودہ طریقہ ہمیں بھی اپنے ملک میں اختیار کرنا چاہئے۔ اس معاملہ میں اور کوئی طریقہ موجودہ حالات میں ممکن نہیں۔

محمد خالد انصاری نے کہا کہ میرا سوال یہ ہے کہ خدا کی معرفت (realisation) کو کیسے بڑھائیں، خاص طور پر جب ہم سفر کر رہے ہوں۔ میں نے کہا کہ خدا کی معرفت بڑھانے کا ایک ہی طریقہ ہے اور وہ وہی ہے جس کو قرآن میں تو سم کہا گیا ہے۔ آدمی ہر وقت کسی نہ کسی تجربہ سے گزرتا ہے۔ اس تجربہ سے کوئی خدائی پہلو نکالنا یہی معرفت کو بڑھانا ہے۔ آپ کو یہ کرنا ہے کہ آپ اپنے ہر تجربہ سے معرفت کی خوراک لیتے رہیں۔

مثلاً اس وقت ہم کار کے ذریعہ ایک سفر طے کر رہے ہیں، دہلی سے بلند شہر کا سفر۔ اس سفر کے دوران ہم کو ایک اور سفر کی یاد آنی چاہئے، یعنی دنیا سے آخرت کا سفر۔ جب ہم اس طرح سوچیں گے تو راستہ کا ہر واقعہ ہمارے لئے خدا کی یاد دلانے والا بن جائے گا۔ ہر واقعہ میں ہم کو خدا کی ربانی غذا ملتی رہے گی۔

پریا ملک نے کہا کہ میرا سوال یہ ہے کہ کوئی شخص اپنی زندگی میں کرائسس (crisis) پر کیسے قابو پائے۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ کرائسس مینجمنٹ (crisis management) کا طریقہ کیا ہے۔ میں نے کہا کہ کرائسس کوئی باہر کا پرابلم (problem) نہیں ہے بلکہ وہ خود آدمی کے اندر کا پرابلم ہے اور یہ پرابلم ہمیشہ معاملہ کے اصل نیچر (nature) کو نہ سمجھنے کی وجہ سے پیدا ہوتا ہے۔ جہاں تک میں سمجھتا ہوں، کرائسس کا سبب یہ ہے کہ زندگی میں اکثر غیر متوقع صورت حال (unexpected situation) پیش آتی ہے۔ اس اچانک تجربہ پر آدمی گھبرا اٹھتا ہے۔ اگر وہ پہلے

‹ Previous page Next page › Contents of November 2004 All issues

Printed page