Al-Risala · November 2004 · page 43

Boss is always right

الرسالہ، نومبر ۲۰۰۴، صفحہ ۴۳

طرح کا سوال کرتے ہیں ۔ حالاں کہ اس معاملہ میں کوئی تیسرا آپشن سرے سے موجود ہی نہیں۔ میں نے کہا کہ میں دہلی میں کاؤنسلنگ (counselling) کرتا ہوں۔ میرے پاس اکثر ملازمت پیشہ لوگ آتے ہیں ۔ یہ لوگ اپنے آفس کے غلط رویہ کی شکایت کرتے ہیں ۔ میں ان سے ہمیشہ یہ کہتا ہوں کہ آپ برداشت اور ٹالرینس کے اصول کو اپنائیے اور پھر آپ کو کبھی کوئی شکایت نہ ہوگی۔

مثلاً ایک بار میرے پاس ایک ہندو خاتون آئیں ۔ انھوں نے کہا کہ مجھے ایک ٹیلی فون کرنا تھا۔ میں نے ٹیلی فون آپریٹر کو فون نمبر دیا اور کہا کہ اس کو ملا دو۔ لڑکی نے نمبر ملانے میں دیر کی ۔ میں اپنی کری سے اٹھ کر اس کے پاس گئی ۔ میں نے کہا کہ تم نے نمبر ملانے میں دیر کیوں کی ۔ اس نے سخت لہجہ میں جواب دیا۔ مجھے غصہ آ گیا ۔ میں نے اس کو ہاتھ سے مار دیا۔ اس نے بتایا کہ اس کے بعد باس نے مجھے اپنے دفتر میں بلایا۔ اس نے کہا کہ یہ دفتر کے آداب کے خلاف ہے کہ کوئی کسی کو مارے۔ اس لئے تم لڑکی سے معانی مانگو۔ مگر میری غیرت معافی مانگنے کے لئے تیار نہ ہوئی۔ میں نے کہا کہ اس مسئلہ کا ایک ہی حل ہے اور وہ اپنی غلطی کا اعتراف ہے۔ آپ دفتر میں جا کر ساری (sorry) کہہ دیجئے اور صرف ایک لفظ کہنے سے سارا مسئلہ ختم ہو جائے گا۔ مگر اس خاتون نے میرا مشورہ نہیں مانا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ ان کو سروس سے نکال دیا گیا۔ اب وہ دوسری کمپنی میں سروس کر رہی ہیں۔ پہلے تجربہ کے بعد اب وہ اپنے الفاظ میں ’’بزدل‘‘ بن کر رہ رہی ہیں۔ میں نے کہا کہ غیر حقیقت پسندانہ روش کی قیمت ہمیشہ بزدلی اور منافقت کی صورت میں دینی پڑتی ہے۔ آپ اگر حقیقت پسندی کا اصول اختیار کرتے تو آپ جس طرح دوسرے آفس میں رہ رہی ہیں اسی طرح آپ پہلے آفس میں بھی رہتیں ۔ ایسی صورت میں آپ کا کیس با اصول خاتون کا کیس ہوتا، جب کہ اب آپ کا کیس دو عملی (duplicity) کا کیس بن گیا ہے۔

ایک صاحب نے کہا کہ بعض مغربی مصنفین کہتے ہیں کہ "قرآن کے کتاب لا ریب ہونے کا دعوی قابل قبول نہیں۔ قرآن میں عوامی قانون سے متعلق صرف ۸۰ آیات ہیں، بقیہ چھ ہزار سے

‹ Previous page Next page › Contents of November 2004 All issues

Printed page