Boss is always right
الرسالہ، نومبر ۲۰۰۴، صفحہ ۴۶
کوئی دلچسپی نہ تھی کہ اخباروں میں کیا چھپ رہا ہے اور پالینکس کی دنیا میں کیا ہو رہا ہے۔ وہ درک کلچر کا پورا نمونہ تھے۔
۱۹ مئی ۲۰۰۴ کو نئی دہلی کے تمام اخباروں کی ہیڈلائن صرف ایک تھی، اور وہ یہ کہ ڈاکٹر من موہن سنگھ کو انڈیا کا پرائم منسٹر مقرر کیا گیا۔ اس خبر کی سرخی روزنامہ ایشین ایج نے ان الفاظ میں قائم کی تھی: راج کرے گا خالصہ۔ مگر سردار منجیت سنگھ کو اس سے کوئی دلچسپی نہ تھی۔ ان کا مقصد صرف ایک تھا، اور وہ تھا، اپنی گاڑی کو دھیان کے ساتھ چلائیں۔
سکھ کمیونٹی انڈیا کی آبادی کا صرف دو فی صد حصہ ہے۔ مگر سکھ لوگ انڈیا کی اقتصادیات کے تقریباً ہیں فی صد حصہ کو کنٹرول کر رہے ہیں۔ وہ دنیا میں ہر جگہ اپنی مخصوص پگڑی کے ساتھ نظر آتے ہیں۔ وہ دنیا کے ہر ائیر پورٹ اور دنیا کی ہر سڑک پر اپنے امتیازی نشان کے ساتھ دکھائی دیتے ہیں۔ سردار منجیت سنگھ کے تجربہ نے مجھے بتایا کہ سکھ لوگوں کی اس غیر معمولی کامیابی کا راز کیا ہے۔ وہ زندگی کا یہ سادہ فارمولا ہے۔ اپنے کام سے کام رکھو۔
۳ جون کی شام کو ہم دہلی واپس آگئے ۔ یہ سفر یا سفری کلاس بظاہر بہت مختصر تھا مگر وہ تجربوں اور نصیحتوں سے بھرا ہوا تھا۔ اس مختصر سفر میں بہت سے سبق سیکھنے کا موقع ملا۔ میرا نظریہ یہ ہے کہ سفر کی کامیابی کو جانچنے کا معیار صرف ایک ہے اور وہ یہ کہ سفر شروع سے آخر تک سبق بن جائے۔ اور اس معیار کے اعتبار سے ۳ جون ۲۰۰۴ کا یہ یک روزہ سفر بلاشبہ ایک کامیاب سفر تھا۔
‹ Previous page Next page › Contents of November 2004 All issues