Al-Risala · November 2004 · page 45

Boss is always right

الرسالہ، نومبر ۲۰۰۴، صفحہ ۴۵

ہے۔ پھر میں نے انھیں ایک قصہ بتایا۔ میں نے کہا کہ میں یورپ کے ایک شہر میں گیا۔ وہاں میرے جانے والے ایک عرب نوجوان رہتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ یہاں کی یونیورسٹی میں میں نے ڈاکٹریٹ کے لئے اپنا نام رجسٹر کرایا تھا مگر اب میں نے ریسرچ کا کام چھوڑ دیا ہے۔ میں نے پوچھا کیوں۔ انھوں نے کہا کہ میری بیوی ایک عرب خاتون ہیں۔ وہ انگلش نہیں جانتی اس لئے شاپنگ وغیرہ کا سارا کام مجھے کرنا پڑتا ہے۔ میں نے کہا کہ یہ کوئی عذر نہیں۔ پھر میں نے ان کو ایک فارمولا بتایا۔ وہ فارمولا یہ تھا:

Not to solve the problem is also a way of solving the problem میں نے کہا کہ جب آدمی یہ محسوس کرے کہ میرے پاس کوئی ہیلپر (helper) نہیں تو اس کا مائنڈ (mind) پہلے سے زیادہ ایکٹیو ہو جاتا ہے۔ وہ پہلے سے زیادہ کام کرنے لگتا ہے۔ پہلے اگر وہ انسان تھا تو اب وہ سپر انسان بن جاتا ہے۔ اس کو ہر آدمی اپنے تجربہ (experience) سے جانتا ہے کہ ہر گھر میں کوئی ہوتا ہے جو گھر کا کام سنبھالے ہوئے ہوتا ہے پھر وہ اچانک مر جاتا ہے۔ مگر اس ایکسیڈینٹ کے بعد گھر کا کام نہیں رکتا۔ وہ پہلے کی طرح چلتا رہتا ہے بلکہ کبھی کبھی پہلے سے زیادہ آگے بڑھ جاتا ہے۔ ایسی حالت میں صحیح فارمولا یہ ہے کہ کسی بھی عذر کو عذر نہ بنایا جائے۔ ہماری گاڑی کو جو ڈرائیور چلا رہے تھے، ان کا نام سردار منجیت سنگھ تھا۔ ان سے ہم نے بعض موضوعات پر بات کرنے کی کوشش کی مگر میں نے محسوس کیا کہ انھیں ہماری باتوں سے کوئی دلچسپی نہیں۔ وہ اپنی ساری تو توجہ صرف گاڑی کو چلانے میں لگائے ہوئے تھے۔ وہ پورے معنوں میں ایک پروفیشنل ڈرائیور تھے۔ وہ ڈرائیور تھے اور صرف ڈرائیور۔

سردار منجیت سنگھ اپنی روایتی پگڑی کے ساتھ پوری طرح ایک سکھ دکھائی دیتے تھے لیکن گفتگو کے دوران میں نے محسوس کیا کہ دوسرے مسائل سے ان کی دلچسپی اتنی کم ہے کہ ان کے پاس یہ سوچنے کا وقت بھی نہیں کہ آج سکھ برادری کا ایک آدمی (ڈاکٹر من موہن سنگھ) انڈیا کا پرائم منسٹر بنا دیا گیا ہے۔ ایسا محسوس ہوتا تھا کہ ان کے لئے یہ ایک غیر متعلق (irrelevant) خبر ہے۔ ان کو اس سے

‹ Previous page Next page › Contents of November 2004 All issues

Printed page