ٹیلی ویژن کا استعمال
الرسالہ، دسمبر ۲۰۰۴، صفحہ ۵۸
ٹیلی ویژن کا استعمال
نئی دہلی کے اردو روز نامہ راشٹریہ سہارا کے شمارہ ۱۱ اگست ۲۰۰۴ میں ایک رپورٹ چھپی ہے۔ اس رپورٹ میں ٹی وی کے بارے میں دو مختلف ’’فتووں‘‘ کا ذکر ہے۔ ایک فتوے میں کہا گیا ہے کہ تبلیغ و دعوت کے لیے ٹی وی کا استعمال جائز ہے۔ دوسرے فتوے میں اس کے برعکس یہ کہا گیا ہے کہ ٹی وی تفریح کا ذریعہ ہے جس پر فحش پروگرام پیش کئے جاتے ہیں۔ دینی پروگرام کے لیے اس کا استعمال ناجائز ہے (صفحہ ۱)
اسلام کا پیغام لوگوں تک پہنچانا اور اسلام کے بارے میں غلط فہمیوں کو دور کرنا ایک ایسا کام ہے جو اہل اسلام پر فرض ہے۔ اس کو ہر دور اور ہر حال میں انجام دینا ہے۔ یہ واضح بات ہے کہ یہ کام اسی جگہ کیا جائے گا جہاں لوگ موجود ہوں یا اسی ذریعہ سے کیا جائے گا جو لوگوں تک پہنچنے والا ہو۔ کسی الگ تھلگ جزیرہ میں انفرادی طور پر یہ کام نہیں کیا جا سکتا۔ ایسی حالت میں یہ شرط لگانا کہ صرف اسی مقام پر یا اسی ذریعہ سے یہ کام کیا جائے گا جہاں کوئی برائی نہ ہو تو اس طرح سرے سے یہ کام ہی انجام نہ پائے گا کیوں کہ دوسرے لوگ کبھی ہماری شرطوں پر ہم کو نہیں مل سکتے۔
مثال کے طور پر پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کو مکہ میں ۶۱۰ میں پیغمبری ملی۔ اس وقت وہاں یہ حال تھا کہ کعبہ میں ۳۶۰ بت رکھے ہوئے تھے۔ گویا کہ کعبہ کو عملاً بت خانہ بنا دیا گیا تھا۔ دوسری طرف یہ صورت حال تھی کہ اس وقت کے مکہ میں کعبہ ہی لوگوں کے لیے مقام اجتماع بنا ہوا تھا۔ مکہ کے لوگ روزانہ کعبہ کے صحن میں جمع ہوتے تھے۔ چنانچہ مکہ والوں تک دین توحید کا پیغام پہنچانے کے لیے جو قابل حصول مقام تھا وہ یہی کعبہ تھا۔ جہاں لوگ اپنے بتوں کی نسبت سے اکٹھا ہوتے تھے۔ کسی اور جگہ ان لوگوں کو پانا ممکن ہی نہ تھا۔
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے اس معاملہ میں ایک حکمت اختیار کی۔ آپ نے بت کے معاملہ کو اور دعوت کے معاملہ کو ایک دوسرے سے الگ کرکے لیا۔ آپ نے اس بات کو نظر انداز کر دیا کہ
‹ Previous page Next page › Contents of December 2004 All issues