Al-Risala · December 2004 · page 59

ٹیلی ویژن کا استعمال

الرسالہ، دسمبر ۲۰۰۴، صفحہ ۵۹

جو لوگ وہاں اکٹھا ہوتے ہیں وہ بتوں کی نسبت سے اکٹھا ہوتے ہیں۔ آپ نے اس پہلو کو نظر انداز کر کے اُس وقت کعبہ کو صرف مقام اجتماع کے طور پر لیا اور وہاں جا کر وہاں کے موجود لوگوں کو قرآن پڑھ کر سنانے لگے اور توحید کا پیغام دینے لگے۔ اس حکمت نبوی کو ایک لفظ میں اس طرح بیان کیا جا سکتا ہے کہ ــــ مسائل کو نظر انداز کرو اور مواقع کو استعمال کرو۔

یہی حکمت ہمیں ٹی وی کے معاملہ میں اختیار کرنا چاہیے۔ یعنی دوسرے غیر مطلوب پروگرام جو ٹی وی میں آتے رہتے ہیں ان کو نظر انداز کر کے اس میڈیم کے ذریعہ اپنا دینی پروگرام پیش کرنا۔ کیوں کہ ٹی وی کے عمومی رواج کی بنا پر یہ صورت حال ہے کہ ہم کو زیادہ سامعین ٹی وی ہی کے ذریعہ مل سکتے ہیں، کسی اور ذریعہ سے ہمیں زیادہ سامعین نہیں ملیں گے۔

تاہم اس کا ایک اور پہلو ہے۔ اس کا تعلق ان پروگراموں سے ہے جو آج کل اسلامی پروگرام کے نام پر ٹی وی میں دکھائے جاتے ہیں۔ یہ پروگرام عملاً زیادہ مفید نہیں۔ ٹی وی کے دوسرے پروگراموں کی طرح ان اسلامی پروگراموں کو بھی تفریح کے روپ میں ڈھال دیا گیا ہے۔ یہ پروگرام بھی اسلام کے نام پر تفریحی پروگرام ہوتے ہیں۔ یہ کہنا صحیح ہوگا کہ وہ زیادہ تر اسلامی تفریح ہوتے ہیں نہ کہ حقیقی معنوں میں اسلامی پروگرام۔

جو لوگ ٹی وی دیکھتے ہیں وہ جانتے ہیں کہ دوسرے مذہب کے لوگ بھی اپنے مذہب کی اشاعت کے لیے ٹی وی کو استعمال کرتے ہیں۔ میری معلومات کے مطابق، اس اعتبار سے سب سے اچھی مثال مسیحی پروگرام کی ہے۔ اردو اور دوسری زبانوں میں روزانہ مسیحی پروگرام آتے رہتے ہیں۔ یہ پروگرام فنی اعتبار سے ممتاز طور پر بہتر ہوتے ہیں۔

جیسا کہ معلوم ہے، ہر مسلم ملک میں اسلامی پروگرام نشر کیے جاتے ہیں۔ مگر میری معلومات کے مطابق، لوگ اس کو بہت کم دیکھتے ہیں۔ غالباً اس کا سبب ان پروگراموں کا غیر معیاری ہونا ہے۔ مجھے ایک سے زیادہ بار اس کا تجربہ ہوا ہے کہ کسی مسلم ملک میں میرا جانا ہوا۔ وہاں میں نے تحقیق کی کہ وہاں کے ٹی وی پر جو اسلامی پروگرام آتے ہیں اس کو لوگ کتنا زیادہ دیکھتے ہیں۔ معلوم

‹ Previous page Next page › Contents of December 2004 All issues

Printed page