Al-Risala · February 2004 · page 11

Social re-engineering of Indian Society

الرسالہ، فروری ۲۰۰۴، صفحہ ۱۱

جاتا۔ کلچر ہمیشہ تاریخی عوامل کے تحت لمبی مدت کے درمیان بنتا ہے۔ کسی دفتر بیس بیٹھ کر کلچر کا نقشہ نہیں بنایا جا سکتا۔

دوسری عالمی جنگ کے بعد کئی ملکوں میں ایسے نظریہ ساز (ideologue) پیدا ہوئے جنہوں نے قومی اتحاد کے لیے ایک کلچر کا سماج بنانے پر زور دیا۔ مثلاً کناڈا میں اسی نظریہ کے تحت یونی کلچرل ازم کی تحریک چلائی گئی۔ مگر تجربہ نے بتایا کہ یہ قابلِ عمل نہیں۔ چنانچہ میں سال کے اندر ہی اندر اس نظریہ کو ترک کر دیا گیا۔ اب کناڈا میں سرکاری طور پر ملٹی کلچرلزم کے اصول کو اختیار کر لیا گیا ہے اور یونی کلچرلزم کے نظریہ کو ہمیشہ کے لیے چھوڑ دیا گیا ہے۔

یہی معاملہ امریکا کا ہے۔ امریکا میں دوسری عالمی جنگ کے بعد امریکنائزیشن کی تحریک چلائی گئی ۔ اس کا مقصد بھی یہی تھا۔ مگر لمبی جد و جہد کے بعد معلوم ہوا کہ وحدت کلچر کا یہ نظریہ قابلِ عمل نہیں۔ چنانچہ اس نظریہ کو ترک کر دیا گیا اور امریکا میں بھی ملٹی کلچرلزم کے اصول کو اختیار کر لیا گیا۔ حقیقت یہ ہے کہ کلچر کا اختلاف دو گروہوں کے درمیان اختلاف کا معاملہ نہیں ہے۔ خود ایک گروہ کے درمیان بھی یہ اختلاف پایا جا سکتا ہے۔ اس داخلی اختلاف کی مثالیں ہر گروہ میں دیکھی جا سکتی ہیں۔ اس لیے مختلف مذاہب کے درمیان اتحاد اور ہم آہنگی لانے کے لیے مذہبی تعلیمات میں تبدیلی ضروری نہیں۔ ضرورت صرف یہ ہے کہ اہل مذاہب کے اندر وہ سوچ پیدا کی جائے جس کو جیو اور جینے دو (live and let live) کہا جاتا ہے۔

کچھ لوگ اس ناکام تجربہ کو اب بھی دہرانا چاہتے ہیں اور اس کا نام انہوں نے سوشل ری انجینیرنگ رکھ دیا ہے:

Social re-engineering of Indian Society

اس کا مطلب یہ ہے کہ سماج کے مختلف گروہوں میں کلچر کے اعتبار سے جو فرق پایا جاتا ہے اس کی دوبارہ تشکیل دی جائے اور ایسا سماج بنایا جائے جس میں کلچر کا فرق ختم کر دیا گیا ہو اور ملک کے تمام لوگ ایک ہی مشترک کلچر کے مطابق زندگی گزاریں۔

‹ Previous page Next page › Contents of February 2004 All issues

Printed page