Al-Risala · February 2004 · page 10

Essential Unity of All Religions

الرسالہ، فروری ۲۰۰۴، صفحہ ۱۰

اس ٹیکسٹ کی تعبیر میں دوبارہ اختلافات پیدا ہوجاتے ہیں اور ایک مذہبی ٹیکسٹ خود داخلی طور پر کئی مذہبی فرقے (sects) وجود میں لانے کا سبب بن جاتا ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ اختلاف یا فرق صرف مذہب کی بات نہیں۔ ہماری دنیا پوری کی پوری فرق اور تنوع کے اصول پر قائم ہے۔ یہ فرق اتنا زیادہ ہمہ گیر ہے کہ کوئی بھی دو چیز یا کوئی بھی دو انسان فرق سے خالی نہیں۔ کسی نے بجا طور پر کہا ہے کہ فطرت یکسانیت سے نفرت کرتی ہے: Nature abhors uniformity جب فرق و اختلاف خود نیچر کا ایک قانون ہو تو مذہب اُس سے مستثنیٰ کیوں کر ہوسکتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ جس طرح دنیا کی تمام چیزوں میں ایک اور دوسرے کے درمیان فرق پایا جاتا ہے اسی طرح مذاہب میں بھی ایک اور دوسرے کے درمیان فرق ہے۔ دوسرے معاملات میں ہم نے فرق کو مٹانے کی ضروری کوشش نہیں کی بلکہ یہ کہہ دیا کہ آؤ ہم اس پر اتفاق کر لیں کہ ہمارے درمیان اختلاف ہے: Let us agree to disagree یہی عملی فارمولا ہمیں مذہب کے معاملہ میں بھی اختیار کرنا چاہئے۔ یہاں بھی ہمیں فرق و اختلاف کے باوجود اتحاد پر زور دینا چاہئے، نہ کہ فرق و اختلاف کے بغیر اتحاد پر۔ حقیقت یہ ہے کہ مذہبی اختلافات کے مسئلہ کا حل صرف ایک ہے اور وہ ہے— ایک کی پیروی کرو اور سب کا احترام کرو: Follow one and respect all کلچر کا اختلاف اس سلسلہ میں دوسرا مسئلہ کلچر کا اختلاف ہے۔ مختلف گروہوں کے درمیان کلچر کا اختلاف ایک حقیقت ہے۔ کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ یہی اختلاف تمام نزاعات کی جڑ ہیں۔ اُن کے نزدیک اس مسئلہ کا حل یہ ہے کہ کلچر کے نام پر جو اختلافات سماج میں پائے جاتے ہیں اُن کو یکسر مٹا دیا جائے اور ایسا سماج قائم کیا جائے جس کے اندر کلچرل یوٹی ہو ۔

یہ تجویز بھی سراسر غیر عملی ہے۔ کلچر نہ کسی کے بنانے سے بنتا اور نہ کسی کے مٹانے سے مٹ

‹ Previous page Next page › Contents of February 2004 All issues

Printed page