Al-Risala · February 2004 · page 19

نارتھ انڈیا اور ساؤتھ انڈیا کا فرق

الرسالہ، فروری ۲۰۰۴، صفحہ ۱۹

فطری معنی میں وہ قرآن کے اندر استعمال ہوا تھا۔

بیسویں صدی کے نصف اول میں اٹھنے والے مسلم رہنما اس فرق کو سمجھ نہ سکے۔ انہوں نے قومیت اور وطنیت کے معاملہ میں اس غیر فطری انتہا پسندی کو اصل سمجھ لیا اور اس بنا پر اس کے غیر اسلامی ہونے کا اعلان کر دیا۔ اس کی ایک مثال مشہور مسلم شاعر اقبال (وفات ۱۹۳۸) کی ہے۔ انہوں نے قومیت اور وطنیت کے اس انتہا پسندانہ وقتی تصور کو اصل سمجھ کر اس کے بارہ میں یہ اشعار کہے تھے: اس دور میں مے اور ہے جام اور ہے جم اور تہذیب کے آزر نے ترشوائے صنم اور ان تازہ خداؤں میں بڑا سب سے وطن ہے جو پیرہن اُس کا ہے وہ مذہب کا کفن ہے قومیت اور وطنیت کے بارہ میں یہ نظریہ بلاشبہ بے بنیاد ہے۔ عجیب بات ہے کہ اُس دور کے اکثر مسلم علماء اور دانشوروں نے سیاسی نوعیت کی چیزوں کو مذہبِ اسلام کے لیے موت و حیات کا مسئلہ سمجھ لیا۔ حالاں کہ کوئی بھی سیاسی اُتار چڑھاؤ مذہب اسلام کی ابدیت کے لیے چیلنج نہیں بن سکتا۔ مثلاً بیسویں صدی کے آغاز میں ترکی کی عثمانی سلطنت ٹوٹی تو شبلی نعمانی نے یہ شعر کہا: زوالِ دولت عثماں زوالِ شرع و ملت ہے عزیز و فکر فرزند و عیال و خانماں کب تک یہ تصور یقینی طور پر بے بنیاد ہے کہ کسی حکومت کا ٹوٹنا’’شرع و ملت‘‘کے لیے زوال کے ہم معنی ہے۔ ایسا نہ کبھی ہوا اور نہ ایسا کبھی ہو سکتا۔ دور اول میں خلافت راشدہ ٹوٹی مگر اسلام کی پر امن توسیع مسلسل جاری رہی۔ اس کے بعد اموی سلطنت ٹوٹی تب بھی اسلام کا سفر بدستور جاری رہا، اس کے بعد عباسی سلطنت ٹوٹی، اندلس کی مسلم سلطنت ٹوٹی، مصر کی فاطمی سلطنت ٹوٹی، ہندوستان کی مغل سلطنت ٹوٹی، وغیرہ وغیرہ۔ مگر سلطنتوں کا یہ زوال اسلام کے زوال کا سبب نہ بن سکا۔ اسی طرح بیسویں صدی میں کئی انتہا پسندانہ نظریات اُبھرے۔ مثلاً کمیونزم، نازی ازم، نیشنلزم اور وطنیت، وغیرہ۔ مگر ان سب کا آخری انجام یہ ہوا کہ فطرت کا قانون اُن کے انتہا پسندانہ عناصر کو رد کرتا ہے اور آخر کار جو چیز بچی وہ وہی تھی جو قانون فطرت کے مطابق مطلوب تھی۔ فطرت کا ابدی قانون ہر دوسری چیز پر بالا ہے۔ فطرت کا قانون اپنے آپ یہ کرتا ہے کہ وہ غیر معتدل افکار کو رد کر کے

‹ Previous page Next page › Contents of February 2004 All issues

Printed page