دارالحرب کی اصطلاح
الرسالہ، فروری ۲۰۰۴، صفحہ ۲۰
افہمیں میدان حیات سے ہٹا دیتا ہے اور اُن کے بجائے معتدل افکار کو کام کرنے کا موقع دیتا ہے۔ کفر اور کافر کا تصور اسی طرح اس معاملہ میں ایک متعلق اصطلاح کفر کی ہے۔ کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ مسلمانوں میں کفر اور کافر کا جو تصور پایا جاتا ہے وہ قومی یکجہتی کی راہ میں ایک مستقل رکاوٹ ہے۔ مگر یہ خیال ایک غلط نہی پر مبنی ہے۔ اس کا قرآن سے کوئی تعلق نہیں۔
کفر کے لفظی معنی انکار کے ہوتے ہیں اور کافر کا مطلب ہے، انکار کرنے والا۔ یہ دونوں الفاظ قرآن میں پیغمبر کی نسبت سے بولے گئے ہیں، وہ عام لوگوں کی نسبت سے نہیں بولے گئے۔ مزید یہ کہ کفر یا کافر ایک شخصی کردار ہے۔ وہ کسی گروہ کا نسلی یا وراثتی نام نہیں۔ کفر یا انکار کا تحقق کسی کے بارہ میں اُس وقت ہوتا ہے جب کہ اُس کے اوپر پیغمبرانہ قسم کی دعوت جاری کی جائے اور اُس کو تکمیل کی حد تک پہنچایا جائے جس کو اتمام حجت کہا جاتا ہے۔ اس طرح کی پیغمبرانہ دعوت کے بغیر کسی کے بارہ میں یہ کہنا درست نہیں کہ اُس نے کفر یا انکار کا فعل کیا ہے۔
اسی طرح کسی فرد یا مجموعہ افراد کے بارہ میں متعین اور مشخص طور پر یہ اعلان کرنا کہ وہ کافر ہو چکے ہیں، عام لوگوں کے لیے جائز نہیں۔ کفر کے فعل کا تعلق حقیقتاً نیت سے ہے اور نیت کا حال صرف اللہ کو معلوم ہے۔ اس لیے متعین اور مشخص طور پر کسی کے بارے میں یہ اعلان کرنا کہ وہ کافر ہو گیا ہے، یہ خالصتاً اللہ کا کام ہے یا اللہ کے دیے ہوئے علم کی بنا پر پیغمبر کا۔ چنانچہ قرآن میں صرف ایک ایسا حوالہ ہے جب کہ قدیم زمانہ کے کچھ لوگوں کو متعین طور پر کافر قرار دے کر کہا گیا کہ : قل یا ايها الكافرون (الكافرون 1)۔ اس انداز کا مشخص خطاب قرآن میں کسی دوسرے گروہ کے لیے نہیں آیا ہے۔ یعنی قرآن میں اس ایک استثناء کو چھوڑ کر فعل کفر کا ذکر تو ہے مگر مشخص طور پر کسی کو فاعل کفر کا درجہ نہیں دیا گیا۔
دارالحرب کی اصطلاح
دارالحرب کی اصطلاح دورِ عباسی میں بننے والی فقہ میں ضرور استعمال ہوئی ہے مگر یہ اصطلاح
‹ Previous page Next page › Contents of February 2004 All issues