Al-Risala · February 2004 · page 21

دارالحرب کی اصطلاح

الرسالہ، فروری ۲۰۰۴، صفحہ ۲۱

قرآن اور حدیث میں مذکور نہیں۔ یہ فرق واضح کرتا ہے کہ دار الحرب کی اصطلاح ایک اجتہادی اصطلاح ہے، وہ کوئی منصوص اصطلاح نہیں۔ اور جو نظریہ اجتہادی ہو اس کے بارہ میں یہ ثابت ہے کہ وہ صحیح بھی ہو سکتا ہے اور غلط بھی۔

میرے نزدیک دار الحرب کی اصطلاح ایک اجتہادی خطا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ہر قسم کے واقعات پیش آئے۔ مگر آپ نے کسی بھی علاقہ کو دار الحرب قرار نہیں دیا۔ اگر قرآن وسنت میں اجتہاد کر کے اس سلسلہ میں کوئی اصطلاح بنائی جائے تو وہ صرف ایک ہوگی، اور وہ دار الدعوة ہے۔ یہی اسلامی روح کے مطابق ہے۔ اسلام ہر قوم کو مدعو کی نظر سے دیکھتا ہے، خواہ اہل اسلام کا تعلق اُن سے امن کا ہو یا حرب کا۔ اس لیے صحیح اسلامی نظریہ کے مطابق، صرف دو اصطلاحیں درست ہیں— دار الاسلام اور دار الدعوة۔ اس کے سوا جو بھی اصطلاحیں بولی گئی ہیں وہ سب میرے نزدیک اجتہادی خطا کا درجہ رکھتی ہیں۔ مثلاً دار الحرب، دار الکفر، دار الطاغوت، وغیرہ۔ جہاد کا تصور کچھ مسلمانوں کی غلط تعبیر کے نتیجہ میں، جہاد کا تصور یہ بن گیا ہے کہ جہاد کا مطلب ہے، مصلحانہ جنگ۔ ان لوگوں کا کہنا ہے کہ مسلمان دنیا میں خدا کے خلیفہ ہیں۔ مسلمان کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ خدا کی نیابت میںخدا کی حکومت دنیا میں قائم کرے۔ وہ خدا کی طرف سے لوگوں کو خدا کے احکام کا پابند بنائے۔ اُن کے نزدیک اس لڑائی کا نام جہاد ہے۔ جہاد کا یہ تصور بلا شبہ بے اصل ہے۔ قرآن وسنت سے اس کا کوئی تعلق نہیں۔

مصلحانہ جنگ اپنے نتیجہ کے اعتبار سے صرف مفسدانہ جنگ ہے۔ اجتماعی زندگی میں پر امن اظہار خیال کا حق تو ہر ایک کو ہے لیکن طاقت کو استعمال کر کے اصلاح کرنے کا نظریہ بین اقوامی زندگی میں نا قابل قبول ہے۔ اجتماعی یا بین اقوامی زندگی میں کوئی گروہ اپنے لیے ایک ایسا حق نہیں لے سکتا جسے وہ دوسروں کو دینے کے لیے تیار نہ ہو۔ اگر ایک گروہ اپنے لیے اصلاحی جنگ کا حق لینا چاہے تو یقینی طور پر اسے دوسروں کو بھی اصلاحی جنگ کا یہ حق دینا ہوگا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ

‹ Previous page Next page › Contents of February 2004 All issues

Printed page