سنن ابی داؤد، کتاب الزکاة
الرسالہ، جون ۲۰۰۴
آدمی کے لیے بہتر جمع کرنے والا مال کیا ہے۔ نیک عورت کہ جب وہ اس کی طرف دیکھے تو وہ اس کو خوش کر دے۔ اور جب وہ اس کو حکم دے تو وہ اس کی اطاعت کرے۔ اور جب وہ موجود نہ ہو تو وہ اس کی حفاظت کرے (عن ابن عباس قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم : ألا اخبرک بخیر ما یکنز المرأ المرأة الصالحة اذا نظر اليها سرته واذا امرها اطاعته و اذا غاب عنها حفظته)۔
سنن ابی داؤد، کتاب الزکاة
اس حدیث میں عورت کی جو صفات بتائی گئی ہیں وہ کوئی سادہ صفات نہیں ہیں۔ اس حدیث کو پوری طرح اُس وقت سمجھا جا سکتا ہے جب کہ اُس کو اُس کے ظاہری الفاظ سے اوپر اُٹھ کر دیکھا جائے۔ جب کہ اُس کو زندگی کے زیادہ گہرے پہلوؤں کے ساتھ جوڑ کر سمجھا جائے ۔ مرد کے لیے عورت صرف اس کی گھریلو ساتھی نہیں ہے بلکہ وہ اُس کے لیے سب سے بڑے خزانہ کی حیثیت رکھتی ہے۔ انسان ایک سوچنے والی مخلوق ہے۔ انسان کی سب سے بڑی ضرورت یہ ہے کہ کوئی ہو جو سوچنے کے عمل میں اُس کے ساتھ شیئر (share) کر سکے۔ جو پورے معنوں میں اس کا فکری رفیق (intellectual partner) بن جائے۔ عورت کسی مرد کی اسی ضرورت کو پورا کرتی ہے۔ وہ اُس کی ایک قابل اعتماد ذہنی رفیق ہے۔ کسی مرد کی بیوی ہی اس کی وہ ساتھی ہے جو اُس کو ہر صبح وشام حاصل رہتی ہے۔
مرد کو چاہیے کہ وہ اپنی رفیقۂ حیات کو اس اعتبار سے تیار کرے ۔ تعلیم و تربیت کے ذریعہ وہ عورت کو اس قابل بنائے کہ وہ حقیقی معنوں میں اپنے شوہر کی ذہنی رفیق (intellectual partner) بن سکے۔ اس قسم کی ذہنی رفاقت کے جو فائدے ہیں اُنہی میں سے کچھ فائدوں کا ذکر علامتی طور پر مذکورہ حدیث میں کیا گیا ہے۔
۹۔ زندگی کی مددگار
ثوبان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ قرآن میں جب یہ آیت اتری کہ جو لوگ سونا اور چاندی جمع
‹ Previous page Next page › Contents of June 2004 All issues