Al-Risala · February 2004 · page 29

نئی دہلی ۵ نومبر ۲۰۰۳ دعا گو وحید الدین

الرسالہ، فروری ۲۰۰۴، صفحہ ۲۹

سوال

الحمد للہ تقریباً ۲۰ سال سے الرسالہ کا قاری ہوں اور آپ کی زیادہ تر کتابیں میری لائبریری میں موجود ہیں۔ آپ کی تحریروں سے جو فائدہ ہوا ہے اسے بیان کرنا نا ممکن ہے۔ کتابیں تو میں نے اہل دیو بند اور جماعت اسلامی کی بھی بہت پڑھی ہیں مگر جو thinking آپ کی تحریروں سے بنی ہے اب اس کے بعد کسی اور کی کتاب دیکھنے کو جی نہیں چاہتا۔

میں تبلیغی جماعت کے ساتھ کام کرتا ہوں۔ مگر یہاں آج کل بہت زیادہ نکلنے پر زور دیا جا رہا ہے ۔ چار مہینہ چالیس دن اور روزانہ کے ڈھائی گھنٹہ پر بہت زیادہ اصرار کیا جاتا ہے۔ میں اپنی مصروفیت اور دوسرے مشاغل کی وجہ سے مطلوبہ وقت دے نہیں پاتا۔ مگر ساتھی اس کا مطالبہ کرتے رہتے ہیں۔ اس میں شک نہیں کہ یہ بھی دین کا کام ہے اور اپنے بھائیوں میں دین کی لائن سے فکر کرنا کہ کیسے وہ اعمال پر آجائیں بہت اونچی بات ہے۔ مگر کیا یہ نکلنا اتنا زیادہ ضروری ہے اور اس کا ثواب بھی وہی ہے جو یہ اللہ کے راستے میں نکلنے کا بتاتے ہیں (عبد الرزاق، ممبئی) جواب موجودہ زمانہ میں مسلمانوں کے درمیان جو تحریکیں اٹھیں، بدقسمتی سے تقریباً ہر ایک میں انتہا پسندی کا وہی غیر مطلوب عنصر پایا جاتا ہے جس کو قرآن اور حدیث میں غلو کہا گیا ہے۔ مثلاً جماعت اسلامی میں سیاسی انتہا پسندی، تبلیغی جماعت میں فضائلی انتہا پسندی، مدارس میں مسائلی انتہا پسندی ، قومی تحریکوں میں مظاہراتی انتہا پسندی، مسلم پرسنل لا ء بورڈ میں شخصی انتہا پسندی، وغیرہ۔

دین میں اصل اہمیت روح کی ہے، نہ کہ مظاہر کی۔ غلو ہمیشہ مظاہر کی بنیاد پر پیدا ہوتا ہے۔ "نکلنے" جیسی چیزیں بھی مظاہر سے تعلق رکھتی ہیں۔ صحیح طریقہ یہ ہے کہ روح دین پر زور دیا جائے ۔ فارم کے بجائے اسپرٹ کو زندہ کرنے میں ساری طاقت صرف کی جائے۔ اسپرٹ جب زندہ ہوتی ہے تو فارم اپنے آپ زندہ ہو جاتا ہے۔ اور اگر اس کے برعکس فارم پر محنت کی جائے تو فارم تو زندہ ہو سکتا

‹ Previous page Next page › Contents of February 2004 All issues

Printed page