Al-Risala · February 2004 · page 30

نئی دہلی ۵ نومبر ۲۰۰۳ دعا گو وحید الدین

الرسالہ، فروری ۲۰۰۴، صفحہ ۳۰

ہے مگر اس سے اسپرٹ زندہ نہ ہوگی۔ ایسے لوگوں کے بارے میں قرآن کی زبان میں یہ کہا جائے گا کہ ایمان کی ظاہری صورت تو تمہاری زندگیوں میں آئی مگر تمہارے دلوں میں ایمان ابھی تک داخل نہیں ہوا۔ (الحجرات ۱۴) سوال آپ اپنی تحریروں میں اکثر صلح حدیبیہ کا ذکر کرتے ہیں۔ آپ بتاتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حدیبیہ کے موقع پر اپنے مخالف کی شرطوں کو یک طرفہ طور پر مان کر ان سے صلح کر لی تھی۔ آپ کا کہنا ہے کہ موجودہ زمانہ میں مسلمانوں کو اپنے حریفوں کے ساتھ ایسا ہی کرنا چاہئے۔ اس سلسلہ میں ایک صاحب کا سوال ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں اس کے برعکس دوسرا واقعہ بھی ملتا ہے۔

یہ وہ واقعہ ہے جب کہ بعد کو ابوسفیان مکہ والوں کے نمائندہ کی حیثیت سے مدینہ آئے اور صلح حدیبیہ کی تجدید و توثیق کی درخواست کی۔ مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اُس کو قبول نہیں فرمایا اور اپنے اصحاب کے ساتھ مکہ کی طرف اقدام کا فیصلہ کیا۔ اب سوال یہ ہے کہ یہ کیسے معلوم ہوگا کہ ہمیں دونوں میں سے کس سنت کی کس وقت پیروی کرنی چاہئے۔ (شمشاد محمد خاں ، برمنگھم)

جواب

اس سوال کا جواب یہ ہے کہ حقیقی صورتِ حال یہ فیصلہ کرے گی کہ ہم اپنے حالات کے لحاظ سے دونوں میں سے کس سنت کے مخاطب ہیں۔ شریعت اور عقل دونوں کا یہ اصول ہے کہ عمل کو ہمیشہ نتیجہ رخی (result-oriented) ہونا چاہئے۔ متوقع نتیجہ کو سامنے رکھ کر یہ فیصلہ کرنا چاہئے کہ ہم دونوں میں سے کس روش کو اختیار کریں۔

موجودہ زمانہ میں مسلمان جن حالات سے دوچار ہیں اُن میں بلا اشتباہ یہ کہا جا سکتا ہے کہ انہیں صبر کے اصول پر اپنے عمل کی منصوبہ بندی کرنی چاہئے، نہ کہ اقدام کے اصول پر۔ پچھلے دوسو سال میں مسلمان بار بار اقدام کا تجربہ کرتے رہے ہیں اور ہر بار وہ مکمل ناکامی سے دوچار ہوئے ہیں۔ کیوں کہ موجودہ زمانہ کے مسلمان اپنی استعداد یا تیاری کے اعتبار سے فریق ثانی کے مقابلہ میں اتنا کم

‹ Previous page Next page › Contents of February 2004 All issues

Printed page