Al-Risala · March 2005 · page 2

مہاراشٹر کا سفر

الرسالہ، مارچ ۲۰۰۵، صفحہ ۲

مہاراشٹر کا سفر

ایک پروگرام کے تحت مہاراشٹر کا سفر ہوا۔ دہلی سے ۲ ستمبر ۲۰۰۴ کو روانگی ہوئی اور ۱۰ ستمبر ۲۰۰۴ کو واپسی ہوئی۔ اس سفر میں مختلف تجربات پیش آئے۔ یہاں اس کی روداد درج کی جاتی ہے۔ ۲ ستمبر کی دوپہر کو نئی دہلی ریلوے اسٹیشن پر پہنچا۔ اسٹیشن عام طور پر صاف نظر آیا۔ پلیٹ فارم پر سب سے زیادہ نمایاں آواز اناؤنسر کی تھی۔ وہ مسلسل مختلف ٹرینوں کے بارے میں وقت کا اعلان کر رہا تھا۔ اناؤنسمنٹ کے دوران مسافروں کو جو باتیں بتائی جارہی تھیں ان میں سے ایک یہ تھی: We wish you a happy, comfortable and safe journey. سفر کا آغاز سچکھنڈ ایکسپریس کے ذریعہ ہوا۔ یہ ٹرین امرتسر اور ناندیڑ کے درمیان چلتی ہے۔ نئی دہلی ریلوے اسٹیشن سے ٹرین ۱۵ منٹ کی تاخیر سے روانہ ہوئی ۔ یہ ہندوستانی معیار کے اعتبار سے کوئی قابل ذکر تاخیر نہ تھی۔ تاہم ٹرین کا تصور ہندوستان میں اور ترقی یافتہ ملکوں میں بہت زیادہ مختلف ہے۔ ترقی یافتہ ملکوں میں ٹرین کا سفر ایک تفریح کے ہم معنی ہوتا ہے، جب کہ ہندوستان میں ہر حال میں ٹرین کا سفر ایک مصیبت ہے، خواہ وہ اس کے اعلیٰ ترین درجہ میں کیوں نہ ہو۔ راستہ میں ہندی روزنامہ دینک بھاسکر کا شمارہ ۲ ستمبر ۲۰۰۴ موجود تھا۔ میرے ساتھی نے اس کو پڑھ کر سنایا۔ اس کے صفحہ اول پر کم از کم تین خبریں ایسی تھیں جو مسلم دہشت گردی سے تعلق رکھتی تھیں۔ اخبار کی پہلی سرخی یہ تھی : تین بھارتیوں سمیت ساتوں بندھک رہا۔ اس خبر میں بتایا گیا تھا کہ کچھ ہندوستانی ٹرک ڈرائیور جو عراق میں کام کر رہے تھے وہ کویت کی ایک عرب کمپنی میں ملازم تھے۔ ان کو اغوا کیا گیا اور پھر ۵ لاکھ ڈالر کی ادائیگی پر انہیں رہا کیا گیا۔

اسی طرح صفحہ اول کی ایک اور خبر کی سرخی تھی : نیپال کی سب سے بڑی مسجد پھونکی۔ خبر کے مطابق ، نیپال کے مزدوروں کو عراق کے مسلم جنگجوؤں نے پکڑ کر یرغمال بنا لیا اور دھمکی دی کہ ہماری شرطیں مانو، نہیں تو ہم ان کو ختم کر دیں گے۔ اس کا شدید رد عمل نیپال میں ہورہا ہے۔ نیپالی لوگ وہاں

‹ Previous page Next page › Contents of March 2005 All issues

Printed page