Al-Risala · March 2005 · page 3

مہاراشٹر کا سفر

الرسالہ، مارچ ۲۰۰۵، صفحہ ۳

کی مسلم اقلیت سے نفرت کرنے لگے ہیں اور ان پرتشدد دانہ حملے شروع ہو گئے ہیں۔ صفحہ اول کی ایک اور خبر ان الفاظ میں تھی: ۲۰۰ روسیوں کو اسکول میں بندھک بنایا۔ خبر کے مطابق، چیچنیا کے مسلم جنگجوؤں نے روس میں گھس کر ایک روسی اسکول کے طلبہ اور اساتذہ کو بندھک بنا لیا اور روسی ذمہ داروں سے کہا کہ ہماری مانگیں پوری کرو ورنہ ہم اسکول کو بم سے اڑا دیں گے۔ اس قسم کے واقعات جو آج کل مسلم مجاہدین کی طرف سے کئے جاتے ہیں وہ سراسر اسلام کی تعلیم کے خلاف ہیں۔ یہ وہ چیز ہے جس کو قطع طریق (رہزنی) کہا گیا ہے۔ اور قطع طریق اسلام میں جائز نہیں۔ آج صبح دہلی میں اسی موضوع پر ایک صاحب سے تفصیلی گفتگو ہوئی تھی۔ یہ محمد خالد ندوی تھے جو آج کل سعودی عرب میں زیر تعلیم ہیں۔ میں نے کہا کہ پہلی بات تو یہ ہے کہ جہاد بمعنی قتال کا تعلق تمام تر باضابطہ طور پر قائم شدہ حکومت سے ہے۔ غیر حکومتی تنظیموں کو جہاد کے نام پر اس قسم کا متشددانہ عمل کرنا ہرگز جائز نہیں۔ دوسری بات یہ کہ بالفرض جہاد بمعنی قتال کی صورت پیدا ہو گئی ہو تب بھی اس کی کچھ لازمی شرطیں ہیں۔ مثلاً قرآن کے الفاظ میں، قوت مرہبہ کی فراہمی۔ اور جب قوت مرہبہ نہ ہو تو پھر صبر ہے یا پرامن جدوجہد۔

ٹرین اپنی رفتار سے چل رہی تھی۔ اس کو دیکھ کر مجھے یہ واقعہ یاد آیا کہ ہریالی اس انتہائی وسیع کائنات میں ایک نادر استثناء کی حیثیت رکھتی ہے۔ ہریالی زمین کا حسن ہے۔ تاہم نئے حالات میں اب اس قیمتی ہریالی کا تیزی سے خاتمہ ہو رہا ہے۔ میرے بچپن میں ہر طرف جنگل ہی جنگل دکھائی دیتا تھا۔ مگر اب ویسے جنگل بہت کم نظر آتے ہیں۔ میں نے ریلوے کے بارہ میں ایک رپورٹ پڑھی تھی۔ اس میں بتایا گیا تھا کہ ہندوستان میں پچھلے برسوں میں ٹرینیں تو بہت بڑھا دی گئی ہیں مگر پٹریاں (tracks) ابھی تک زیادہ تر وہی ہیں جو آزادی سے پہلے کے زمانہ میں بنائی گئی تھیں۔ اس کا ایک تجربہ مجھے اس سفر میں ہوا۔ میں نے پایا کہ ٹرین مسلسل ہلتی ہوئی چل رہی ہے۔ ایسا معلوم ہوتا تھا جیسے پٹریاں بوڑھی ہوگئی ہوں اور ٹرین کا بوجھ مشکل سے اٹھا رہی ہوں۔

جو لوگ سیاسی اقتدار حاصل کرتے ہیں وہ عوام کو خوش کرنے کے لیے یہ الفاظ بولتے ہیں کہ ہم

‹ Previous page Next page › Contents of March 2005 All issues

Printed page