حج کے منافع
الرسالہ، اپریل ۲۰۰۵، صفحہ ۲
حج کے منافع
قرآن میں ارشاد ہوا ہے: اور لوگوں میں حج کا اعلان کر دو، وہ تمہارے پاس آئیں گے۔ پیروں پر چل کر اور دبلے اونٹوں پر سوار ہو کر جو کہ دور دراز راستوں سے آئیں گے تاکہ وہ اپنے منافع کی جگہوں پر پہنچیں اور چند معلوم دنوں میں ان چوپایوں پر اللہ کا نام لیں جو اس نے انہیں بخشے ہیں (الحج ۲۷-۲۸)۔ یہاں منافع سے مراد ایمانی منافع ہیں۔ حج کے موقع پر ان ایمانی منافع کا ذریعہ وہ چیز ہے جس کو قرآن میں دوسرے مقام پر شعائر اللہ (البقرہ ۱۵۸) کہا گیا ہے، یعنی اللہ کی یادگاریں۔ اللہ کی یادگاروں سے مراد تحریک توحید کی وہ تاریخی یادگاریں ہیں جو پیغمبروں کے ذریعہ اس علاقہ میں قائم ہوئیں۔ حج کے موقع پر جو مراسم ادا کئے جاتے ہیں وہ سب اسی پیغمبرانہ تاریخ کی یاددہانی کے لیے ہیں۔
احرام کا مطلب یہ ہے کہ مادی کلچر سے نکل کر آدمی ربانی کلچر میں داخل ہو گیا۔ صفا اور مروہ کے درمیان سعی کر کے حاجی اس عہد کی تجدید کرتا ہے کہ وہ اسماعیل اور ام اسماعیل کی طرح اپنے آپ کو دین توحید کے لیے وقف کرے گا۔ جمرات پر کنکریاں مار کر وہ علامتی زبان میں یہ کہہ رہا ہوتا ہے کہ میں اسی طرح شیطان کو اپنے آپ سے دور بھگاؤں گا۔ جس طرح پیغمبر نے شیطان کو اپنے آپ سے دور بھگایا۔ قربانی کر کے حاجی یہ عہد کرتا ہے کہ وہ مادہ پرستی کو چھوڑ کر خدا پرستی کی زندگی اختیار کرے گا۔ عرفات کے میدان میں اکٹھا ہو کر تمام حاجی ان وقت کو یاد کرتے ہیں جب وہ میدان حشر میں اپنا حساب دینے کے لیے حاضر کئے جائیں گے۔
آخر میں حاجی پیغمبر کی اس پکار کو لے کر واپس ہوتا ہے جواب بھی عرفات کی فضاؤں میں گونج رہی ہے۔ پیغمبر اسلام نے یہاں ۱۴۰۰ سال پہلے فرمایا تھا: ان الله بعثني كافة للناس فآذوا عنی (اللہ نے مجھ کو تمام لوگوں کے لئے بھیجا ہے اس لیے تم میری طرف سے تمام انسانوں تک میرا پیغام پہنچا دو) حج کا سبق یہ ہے کہ اے مسلمانو، تم لوگ خدا کے دین کی عالمی پیغام رسانی میں سرگرم
‹ Previous page Next page › Contents of April 2005 All issues