Al-Risala · April 2005 · page 3

حج کے منافع

الرسالہ، اپریل ۲۰۰۵، صفحہ ۳

ہو جاؤ۔ تمہاری دوڑ دھوپ ، تمہارا اٹھہرنا اور چلنا ، تمہارا چپ ہونا اور بولنا سب کچھ اسی دعوتی مشن کے لیے وقف ہو جائے۔

حج کو افضل عبادت کہا گیا ہے۔ یہ کوئی پر اسرار بات نہیں۔ بلکہ یہ ایک معلوم حقیقت ہے۔ حج کی سالانہ عبادت کے دوران جو عمل کئے جاتے ہیں اُن پر غور کرنے سے یہ واضح ہوتا ہے کہ حج اپنے کثیر فوائد کی بنا پر اس قابل ہے کہ اس کو افضل عبادت کہا جائے۔

حج میں ساری دنیا کے مسلمان مختلف علاقوں سے چل کر کعبہ کی سر زمین میں پہنچتے ہیں۔ یہ سفر پتھروں کا سفر نہیں ہوتا بلکہ وہ زندہ انسانوں کا سفر ہوتا ہے، ایسے انسان جو دیکھنے اور سننے اور سمجھنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ اس طرح جب یہ لوگ حج کے موسم میں دنیا کے مختلف علاقوں سے نکل کر حجاز کی طرف روانہ ہوتے ہیں تو اس کا فطری نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ایک عالمی ہلچل وجود میں آ جاتی ہے۔ اس اعتبار سے حج کے بارے میں کہا جا سکتا ہے کہ وہ عالمی سطح پر انسانوں کا ایک عبادتی موبلائزیشن ہے۔ تقریباً نصف کروڑ کی تعداد میں جب اہل ایمان اپنے گھروں سے نکل کر حج کے سفر پر روانہ ہوتے ہیں تو اس دوران بار باران کا انٹریکشن دوسروں سے ہوتا ہے۔ اس انٹریکشن کے دوران اپنے آپ یہ ہوتا ہے کہ مختلف ملکوں کے لوگوں کے درمیان اسلام کے تعارف کا عمل شروع ہو جاتا ہے۔ حاجی کو اس سفر کے دوران نئی نئی چیزیں دیکھنے کو ملتی ہیں۔ اس سے اُس کے تجربات میں اضافہ ہوتا ہے۔ اس دوران اُس کی زندگی مختلف مراحل سے گزرتی ہے۔ اس طرح حج کا سفر اس کے لیے دینی سیاحت کے ہم معنی بن جاتا ہے۔ اس سفر کے دوران بار بار دوسرے حاجیوں سے اس کے اختلافات ہوتے ہیں۔ مگر لا جدال في الحج کے حکم ربانی کے تحت وہ ان اختلافات پر تحمّل کا طریقہ اختیار کرتا ہے۔ اس طرح حج اس کے لیے اختلاف کے باوجود اتحاد کی تربیت بن جاتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ حج ایک جامع عبادت ہے۔ حج کا عمل ایک ایسی تربیت ہے جس میں وہ تمام پہلو شامل ہو جاتے ہیں جو اسلام میں ہر فرد سے مطلوب ہیں۔ تاہم حج کے فائدے صرف اس انسان کو ملتے ہیں جو زندہ شعور کے ساتھ حج کی عبادت کرے۔

‹ Previous page Next page › Contents of April 2005 All issues

Printed page