ہلم نقاتل هلم نقاتل فان القتال سبيل الرشاد
الرسالہ، اپریل ۲۰۰۵، صفحہ ۱۶
پوری طرح چھوڑ دیا۔ کیوں کہ انہوں نے اپنی مدعو قوموں کو اپنا دشمن سمجھ لیا۔ وہ ان کو ہلاک کرنے کے در پے ہو گئے ۔ ان کی مسجدوں میں مدعو قوموں کے خلاف ہلاکت اور تد میر دیار کی بد دعائیں ہونے لگیں۔ ان کے نوجوان مدعو قوموں کے خلاف ہر ممکن تشدد کرنے لگے۔ اس طرح دعوتی عمل کے لیے مسلمانوں کی نا اہلی آخری طور پر ثابت ہو گئی۔ اس بنا پر مسلمانوں کے ساتھ خدا کا معاملہ وہ ہوا جس کو بائبل کے ایک پیغمبر نے ان الفاظ میں بیان کیا ہے: وہ مردود چاندی کہلائیں گے کیوں کہ خداوند نے ان کو رد کر دیا ہے:
People will call them rejected silver, because the Lord has rejected them. (Jeremiah, 6:30)
اب دعوتی عمل کا وہ دور شروع ہوا جس کو ہم نے تیسرا دور کہا ہے۔ اب خدا نے یہ کیا کہ خود تاریخ انسانی میں دعوت کے کام کو ایک پراسس(process) کے طور پر داخل کر دیا۔ یہ پراسس اس دور میں شروع ہوا جس کو دوسرے الفاظ میں ما بعد سائنسی دور (post-scientific era) کہا جاتا ہے۔ اس تاریخی عمل کا اشارہ حدیث میں ان الفاظ میں پایا جاتا ہے:
لا يبقى على ظهر الأرض بيت مدر ولا وبر إلا ادخله الله كلمة الاسلام (مسند احمد ۴/ یعنی زمین کی سطح پر کوئی گھر یا خیمہ نہیں بچے گا مگر یہ کہ خدا اس کے اندر اسلام کا کلمہ داخل کر دے گا۔
اس حدیث میں کلمہ اسلام کی عمومی اشاعت کے عمل کو خدا کی طرف منسوب کیا گیا ہے جب کہ دعوت کے پہلے دور میں اس کو رسولوں کی طرف اور اس کے دوسرے دور میں اس کو امت محمدی کی طرف منسوب کیا گیا تھا۔ گویا انسانی زبان میں یوں کہا جا سکتا ہے کہ دعوت کے تیسرے دور میں خدا دعوتی عمل کا چارج خود اپنے ہاتھ میں لے لے گا۔ مذکورہ حدیث میں اس بات کا اشارہ بھی ملتا ہے کہ جب ایسا ہوگا تو دعوتی عمل کی رفتار بھی بہت تیز ہو جائے گی۔
موجودہ زمانہ میں یہ تیسرا دعوتی منصوبہ پوری طرح واقعہ بن چکا ہے۔ چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ
‹ Previous page Next page › Contents of April 2005 All issues