ہلم نقاتل هلم نقاتل فان القتال سبيل الرشاد
الرسالہ، اپریل ۲۰۰۵، صفحہ ۱۵
نہ رہا۔ وہ اپنی قوم اور غیر قوم کی ٴ" بہانہ تقسیم میں جینے لگے۔ دوسری عالمی جنگ کے بعد مسلمانوں کی ۷۵ آزاد حکومتیں بن گئیں۔ مگر مسلمانوں کی نفرت اغیار بدستور باقی ہے۔ کیوں کہ شعوری یا غیر شعوری طور پر وہ اپنی کوتاہی کا الزام دوسروں کو دینا چاہتے تھے۔
اب مسلمانوں میں دعوتی تحریکوں کے بجائے جہادی تحریکیں جاری ہوگئیں۔ پہلے صوفیاء پرامن دعوتی تحریک کی علامت تھے۔ اب یہ ہوا کہ ساری مسلم دنیا میں سیاسی تحریکیں مسلح جہاد کی علامت بن کر ابھر آئیں ۔ صوفیاء کا مزاج صلح کل (peace with all) کے اصول پر قائم تھا۔ لیکن ردعمل کے تحت اٹھنے والی سیاسی تحریکوں کا نعرہ یہ ہوگیا کہ آؤ ہم جنگ کریں، آؤ ہم جنگ کریں، کیوں کہ جنگ ہی کامیابی کا راستہ ہے:
ہلم نقاتل هلم نقاتل فان القتال سبيل الرشاد
جہاد و انقلاب کے نام پر اٹھنے والی ان سیاسی تحریکوں نے ساری دنیا میں غیر مسلم قوموں کو نفرت کا موضوع بنا دیا۔ ان کی سوچ نفرت کی سوچ بن گئی۔ تمام لکھنے اور بولنے والے مسلمان نفرت کی زبان میں کلام کرنے لگے۔ اس طرح ساری دنیا کے مسلمانوں نے یہ صلاحیت کھودی کہ وہ غیر مسلم قوموں کو خدا کے دین کا پیغام پہنچا سکیں ۔
مگر خدا کا انتباہی نظام (warning system) رکنے والا نہ تھا۔ خدا جس طرح سورج کے ذریعہ مادی روشنی دنیا والوں کو پہنچا رہا ہے۔ اسی طرح خدا کو یہ مطلوب ہے کہ دعوت اسلام کے ذریعہ سچائی کی روشنی بلا انقطاع دنیا والوں تک پہنچتی رہے۔ چنانچہ جب مسلمان اپنی منفی نفسیات کی بنا پر دعوت کے کام کے لیے نااہل ہو گئے تو وہ واقعہ ہوا جس کو مسیح نے ان الفاظ میں بیان کیا تھا کہ میں تم سے کہتا ہوں کہ اگر انسان چپ رہیں تو پتھر چلا اٹھیں گے :
I tell you that if these should keep silent, the stones would immediately cry out. (Luke, 19:40)
واقعات بتاتے ہیں کہ ۱۹ ویں صدی اور ۲۰ ویں صدی میں مسلمانوں نے دعوت کا عمل
‹ Previous page Next page › Contents of April 2005 All issues