ہلم نقاتل هلم نقاتل فان القتال سبيل الرشاد
الرسالہ، اپریل ۲۰۰۵، صفحہ ۲۱
۱۰۔ حدیث میں آیا ہے کہ پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللهم لا عيش الا الآخرة (صحیح البخاری، کتاب الرقاق، باب ما جاء فى الرقاق، وأن لا عيش إلا عيش الآخرة) ۔ یعنی عیش (pleasure) دنیا میں نہیں، وہ صرف آخرت میں ہے۔ اسلام دعوتِ آخرت ہے۔ اس اعتبار سے اس حقیقت کا نہایت گہرا تعلق دعوت کے عمل سے ہے۔ مگر قدیم زمانہ میں یہ حقیقت زیادہ تر عقیدہ کی حیثیت رکھتی تھی۔ موجودہ زمانہ میں اس کی حیثیت ہر ایک کے لیے ذاتی تجربہ کی ہوگئی ہے۔
اصل یہ ہے کہ انسان کو خدا نے ایک معیار پسند (perfectionist) مخلوق کی حیثیت سے پیدا کیا ہے۔ مگر ہر ایک کو موت سے پہلے کے مرحلۂ حیات میں موجودہ دنیا میں رہنا پڑتا ہے، اور یہ دنیا ایک غیر معیاری دنیا (imperfect world) ہے۔ طالب اور مطلوب کے درمیان یہی وہ تضاد ہے جس کی بنا پر دنیا کا ساز وسامان کسی کو حقیقی طور پر خوشی نہیں دیتا۔ موجودہ دنیا کی یہ صورت حال ایک خاموش پیغام ہے کہ اے انسان، تو اگر اپنی مطلوب خوشی کو پانا چاہتا ہے تو اس کو موت کے بعد کی دنیا میں تلاش کر۔ کیوں کہ موت سے پہلے کی دنیا میں وہ تجھ کو ملنے والی ہی نہیں۔ اسلامی دعوت کے اعتبار سے یہ بات بہت زیادہ اہم ہے۔ مگر قدیم زرعی دور میں صرف بڑے بڑے مالکانِ زمین (landlords) ہی کے لیے یہ ممکن تھا کہ وہ اس عظیم حقیقت کو ذاتی تجربہ کے تحت دریافت کرسکیں۔ چنانچہ فصد عوام اقتصادی ذرائع سے محروم ہونے کی بنا پر اس حقیقت کا ذاتی تجربہ کرنے کی پوزیشن ہی میں نہیں تھے۔ وہ شعوری طور پر اس حقیقت سے غافل رہ کر صرف اس حسرت میں جیتے تھے اور مر جاتے تھے کہ اگر ہمارے پاس دولت ہوتی تو ہم بھی دنیا کے اچھے سامان حاصل کرتے اور عیش و آرام کی زندگی گزارتے۔
موجودہ زمانہ میں صنعت اور ٹیکنالوجی میں جو ترقی ہوئی ہے اُس کا ایک پہلو وہ ہے جس کو اقتصادی انفجار (economic explosion) کہا جاسکتا ہے۔ موجودہ زمانہ میں اقتصادی مواقع کے عمومی پھیلاؤ نے مال کو ہر آدمی کی دسترس تک پہنچا دیا ہے۔ اب ہر آدمی کے لیے ممکن ہو گیا ہے کہ وہ
‹ Previous page Next page › Contents of April 2005 All issues