Al-Risala · April 2005 · page 22

ہلم نقاتل هلم نقاتل فان القتال سبيل الرشاد

الرسالہ، اپریل ۲۰۰۵، صفحہ ۲۲

اچھے سامان حیات کے درمیان رہ سکے۔ اقتصادی تو سیع کے اسی ظاہر ہ کو حدیث جبریل میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے : أن ترى الحفاة العراة يتطاولون في البنيان (صحيح البخاری)۔ موجودہ زمانہ کو کنزیومرزم (consumerism) کا زمانہ کہا جاتا ہے۔ اس زمانی تقاضے کے نتیجہ میں ہر عورت اور مرد کو یہ موقع ملا کہ وہ دنیا کی خوش نما چیزوں کو حاصل کر سکے اور ان کے درمیان جئۓ۔ مگر عملاً یہ ہوا کہ لوگ ان خوش نما چیزوں کے ملنے سے پہلے جتنے غیر مطمئن تھے، اتنے ہی غیر مطمئن وہ اُن کے ملنے کے بعد بھی رہے۔ اس طرح مذکورہ حدیث میں بیان کی جانے والی حقیقت موجودہ زمانہ میں ہر عورت اور مرد کا ذاتی تجربہ بن گئی۔

اس طرح یہ ممکن ہو گیا کہ جب لوگوں کو جنت کی طرف بلایا جائے تو یہ بات ہر ایک کے لیے ایک قابل فہم بات ہو۔ ہر ایک اپنے ذاتی تجربہ کی بنیاد پر یہ سمجھ سکے کہ اسلام میں جنت کی دعوت بلا شبہ ایک حقیقی دعوت ہے۔ ہر انسان اپنی فطرت میں دبے ہوئے جذبات کے تحت اپنے لیے ایک آئیڈیل دنیا حاصل کرنا چاہتا ہے۔ اسلام کا یہ کہنا ہے کہ یہ آئیڈیل دنیا موت سے پہلے کی زندگی میں مل نہیں سکتی۔ وہ صرف موت کے بعد کی زندگی میں بشرط استحقاق ملے گی۔ اسلام کی یہ دعوت قدیم زمانہ میں زیادہ تر ایک عقیدہ کی حیثیت رکھتی تھی۔ مگر موجودہ زمانہ میں وہ ذاتی تجربہ کے تحت ہر انسان کے لیے ایک معلوم حقیقت بن چکی ہے۔

دور جدید میں ظاہر ہونے والے ان واقعات نے اسلام کی دعوت واشاعت کے لیے انتہائی وسیع نئے امکانات کھول دیے ہیں۔ یہ امکانات اتنے زیادہ طاقتور ہیں کہ وہ اپنے آپ لوگوں تک اسلام کو پہنچانے کا ذریعہ بن گئے ہیں۔ مسلمانوں نے اگر چہ غیر مسلموں تک اسلام کا پیغام پہنچانے کا کام چھوڑ دیا تھا مگر مذکورہ قسم کے نئے واقعات کی بنا پر دعوت کا کام خود خدائی انتظام کے تحت جاری ہو گیا ہے۔ حدیث کے الفاظ میں، اللہ تعالیٰ خود اپنے زور پر اپنے دین کا پیغام ساری دنیا میں ہر چھوٹے اور بڑے گھر میں پہنچا رہا ہے۔ بہت جلد وہ وقت آنے والا ہے جب کہ کوئی بھی عورت یا مرد اس پیغام سے بے خبر نہ رہے اور تمام انسانوں کے اوپر خدا کی حجت تمام ہو جائے۔

‹ Previous page Next page › Contents of April 2005 All issues

Printed page