Al-Risala · April 2005 · page 29

وہ امت لقب جس کا خیر الامم تھا

الرسالہ، اپریل ۲۰۰۵، صفحہ ۲۹

نے دار کی جو تقسیم کی اس نے تاریخ بشری کے بارے میں ایک نیا نقطہ نظر پیدا کیا۔ اس کے مطابق، سارا معاملہ مسلم ورسس نان مسلم کا معاملہ بن گیا۔ مگر قرآن کے مطابق، یہ معاملہ خدا اور کس انسان کا معاملہ ہے۔

بعد کے زمانہ میں دار کی نسبت سے بننے والی اس غلط تقسیم نے مسلمانوں کے طرز فکر کو نہایت گہرے طور پر متاثر کیا۔ اس کی ایک مثال یہ ہے کہ رسول اور اصحاب رسول کے بعد بننے والی پوری مسلم تاریخ میں جو کتابیں لکھی گئیں وہ تقریباً سب کی سب مسلم اور بینڈ سوچ کے تحت لکھی گئیں۔ سید رشید رضا کی کتاب لما ذا تأخر المسلمون و تقدم غيرهم اور سید ابوالحسن علی ندوی کی کتاب ماذا خسر العالم بانحطاط المسلمين کے ٹائٹل اسی طرز فکر کی عکاسی کرتے ہیں۔

میرے علم کے مطابق، ہزار سال کی مسلم تاریخ میں عبد الرحمن ابن خلدون کی کتاب (مقدمہ ابن خلدون) کو چھوڑ کر غالباً کوئی بھی کتاب ایسی نہیں جو حقیقی معنوں میں انسان اور بینڈ سوچ کے تحت لکھی گئی ہو۔ اس مدت میں غیر مسلموں کو وائیڈریس کرنے کے لیے جو کتابیں لکھی گئیں وہ سب مناظرہ کے اصول پر لکھی گئیں۔ مثال کے طور پر ابن تیمیہ کی کتاب ”الجواب الصحيح لمن بدل دین المسيح“ اور مولانا قاسم نانوتوی کی کتاب اظہار الحق، وغیرہ۔ بعد کے زمانہ میں لکھی جانے والی کتابوں کو پڑھ کر ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے کہ انسانیت عامہ مسلمانوں کا کنسرن ہی نہیں۔ بعد کے زمانہ میں قرآن اور حدیث کی جو شرحیں لکھی گئیں وہ بھی بعد کو پیدا ہونے والی اس فکر سے متاثر نظر آتی ہیں۔ مثال کے طور پر قرآن میں خیر امت (آل عمران ۱۱۰) کا لفظ آیا ہے۔ بعد کی تفسیروں میں اس لفظ کو مسلم کمیونٹی کا گروہی لقب سمجھ لیا گیا۔ چنانچہ یہ کہا جانے لگا کہ مسلمان خیر الامم ہیں : انهم خير الامم (ابن کثیر، تفسیر القرآن العظیم، ۱/ اسی بات کو حالی نے اس طرح نظم کیا ہے:

وہ امت لقب جس کا خیر الامم تھا

حالاں کہ قرآن کی اس آیت میں خیر امت سے مراد کوئی نسلی گروہ نہیں ہے بلکہ اس سے مراد

‹ Previous page Next page › Contents of April 2005 All issues

Printed page