دارالاسلام، دارالکفر، دارالحرب
الرسالہ، اپریل ۲۰۰۵، صفحہ ۲۸
اعتبار سے خدا کے نزدیک یکساں ہیں۔ خدا کی عدالت میں کامیابی کا فیصلہ گروہی تعلق کی بنیاد پر نہیں ہوگا بلکہ حقیقی کردار کی بنیاد پر ہوگا۔
اس طرح کے قرآنی بیانات سے واضح ہوتا ہے کہ صحیح اسلامی نقطہ نظریہ ہے کہ انسانوں کو خدا کی نسبت سے (God vs man) دیکھا جائے نہ کہ مسلم و رُسزنانِ مسلم (Muslim vs non-Muslim) کی نسبت سے۔ کسی کا جو مقام خدا کی نسبت سے متعین ہو، وہی اس کا مقام ہے، دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی۔ مسلمانوں کی نسبت سے دوسرے انسانوں کا مقام (status) متعین کرنا ایک قومی نقطہ نظر ہے، اس کا قرآن یا اسلام سے کوئی تعلق نہیں۔ وہ خدا کے تخلیقی نقشہ (creation plan) کے خلاف ہے۔ کیوں کہ خدا نے یہ دنیا سارے انسانوں کے لیے بنائی ہے، نہ کہ صرف مسلمانوں کے لیے۔ قرآن میں خدا جب لوگوں کو خطاب کرتا ہے تو وہ بار بار ایہا الانسان اور ایہا الناس جیسے الفاظ استعمال کرتا ہے۔ ایسی حالت میں قرآن کی روشنی میں دار کا تعین کرنا ہو تو کہا جائے گا کہ ساری دنیا دار الانسان ہے۔ ایک طرف خدا ہے اور دوسری طرف تمام انسان۔
مذکورہ اصطلاح سازی کے نتیجہ میں مسلمانوں کے اندر وہ تفریقی نظریہ پیدا ہوا جس کو ہم اور وہ (we and they) کا نظریہ کہا جاتا ہے۔ اس تصور کے تحت مسلمان انسانی تاریخ کو صرف اپنے ریفرنس میں دیکھنے لگے۔ وہ اپنی نسبت سے دوسروں کا درجہ متعین کرنے لگے۔ ایک کو انہوں نے مسلم قوم کہا اور دوسرے کو انہوں نے کافر قوم قرار دیا۔ اب یہ ہوا کہ جو لوگ ان کے اپنے ہم مذہب (co-religionist) تھے ان کو انہوں نے اپنا سمجھا اور جو لوگ دوسرے مذہب پر قائم تھے ان کو انہوں نے غیر (other) کی حیثیت دے دی۔ اپنے سوا جو دوسرے لوگ تھے وہ ان کے لیے یا تو کافر بن گئے یا امکانی دشمن (potential enemy)۔ قرآن کی ساری بشارتیں انہوں نے اپنے خانہ میں لکھ لیں اور قرآن کی ساری وعیدیں انہوں نے دوسروں کے خانہ میں ڈال دیں۔
انسانیت کا درجہ مسلمانوں کے حوالے سے مقرر کرنے کا یہ طریقہ سراسر قرآن کے خلاف تھا۔ قرآن کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ قرآن انسانیت کا درجہ خدا کی نسبت سے متعین کرتا ہے۔ فقہاء
‹ Previous page Next page › Contents of April 2005 All issues