Al-Risala · April 2005 · page 32

Was he not a human being.

الرسالہ، اپریل ۲۰۰۵، صفحہ ۳۲

مسٹر خوشونت سنگھ کا تبصرہ اس موضوع پر چھپا ہے جس کا عنوان ہے : Spreading Islamophobia۔

اس عنوان کے تحت مسٹر خوشونت سنگھ نے جو کچھ لکھا ہے اس کا ایک حصہ یہ ہے :

About the most disturbing phenomenon of the past decade is the widening divide between the Islamic and non-Islamic world…… I looked forward to the Pakistani channel, Q (Qur'an) TV, to take the lead in this direction. I made it a point to tune in every afternoon to see and hear how it was going about its mission. I was sorely disappointed. I expected it would address itself to non-Muslim audiences among which wrong notions about Islam persist. I found it focused intirely on Muslims to assure them that their faith was better than any other and anyone who disagreed is an ignoramus. (p. 10) انڈین جرنلسٹ کے مذکورہ الفاظ تقریباً تمام لکھنے اور بولنے والے مسلمانوں پر صادق آتے ہیں۔ بعد کے زمانہ میں بننے والا یہ مزاج واحد سبب تھا جس کی بنا پر مسلمانوں کے اندر دعوت کا نشانہ سرے سے مفقود ہو گیا۔ مسلم اور ریفنڈ تھنکنگ مسلمانوں کو مسلم فرینڈلی بناتی ہے۔ جب کہ انسان اور ریفنڈ تھنکنگ مسلمانوں کو انسان فرینڈلی بنانے والی ہے۔ اس کے بعد فطری طور پر ایسا ہوا کہ مسلمان دعوہ ورک اور کمیونٹی ورک کے فرق کو سمجھنے سے قاصر رہے۔ وہ کمیونٹی ورک کرتے ہیں اور اس کو دعوہ ورک کا نام دے دیتے ہیں۔ یہ سلسلہ بہت پہلے سے چلا آرہا ہے۔ فقہ احکام وشریعت کا بیان ہے۔ فقہ کے موضوع پر ہزاروں کتابیں لکھی گئیں۔ مگر ان کتابوں میں دعوت اور تبلیغ کا باب سرے سے موجود نہیں۔ اسی طرح الغزالی، ابن تیمیہ، شاہ ولی اللہ، جمال الدین افغانی، محمد اقبال اور دوسرے تمام مسلم مصنفین کی کتابیں دعوت کے تصور سے خالی ہیں۔ اس کا سبب یہ ہے کہ مذکورہ فقہی تصور کے مطابق، مسلمانوں کے لیے غیر مسلم عملاً جہاد کا موضوع بن گئے، وہ اُن کے لیے سرے سے دعوت کا موضوع نہ بن سکے۔ اس غیر فطری طرزِ فکر کا نتیجہ یہ ہوا کہ مسلم امت ایک طرف فکری جمود کا شکار ہوگئی اور دوسری طرف وہ دوسری قوموں کے لیے صرف ایک حریف گروہ بن کر رہ گئی۔ مسلم اور غیر مسلم کے درمیان

‹ Previous page Next page › Contents of April 2005 All issues

Printed page