Al-Risala · April 2005 · page 33

Was he not a human being.

الرسالہ، اپریل ۲۰۰۵، صفحہ ۳۳

داعی اور مدعو کا تعلق ختم ہو گیا۔ اس کے بجائے دونوں کے درمیان حریف اور رقیب کا تعلق قائم ہو گیا۔ فقہاء نے دار کی جو تقسیم کی ہے اس کے مطابق انہیں دکھائی دیا کہ کوئی ملک یا تو دار الاسلام ہوگا یا دار الحرب ہوگا۔ اس معاملہ میں ان کی یہ تقسیمی سوچ اس حد تک پہنچی کہ اکثر فقہاء نے یہ کہا کہ غیر مسلم حکومت میں اگر اسلام کے احکام پر عمل کرنے کی آزادی ہو تب بھی وہ دار الحرب ہی رہے گا۔ ان فقہاء کے اندر اگر دعوت و تبلیغ کا شعور ہوتا تو وہ جانتے کہ یہاں ایک تیسری مطلوب صورت بھی موجود ہے، اور وہ دار الدعوہ ہے۔

دار الحرب کا لفظ غیر مسلموں کے لیے ایک قابل اعتراض لفظ ہے۔ خاص طور پر موجودہ زمانہ میں دار الحرب کا تصور لے کر مسلمان کسی سماج میں معتدل انداز میں نہیں رہ سکتے۔ یہ عجیب و غریب صورت اس لیے پیش آئی کہ قدیم فقہاء صرف دو قسم کے دار سے واقف تھے۔ اگر وہ اسلام کی دعوتی تعلیمات کو سمجھتے تو وہ بہت آسانی سے جان لیتے کہ دوسرے ممالک مسلمانوں کے لیے دار الدعوہ کی حیثیت رکھتے ہیں۔ کیوں کہ دوسرے ملکوں میں ہمیشہ دعوت کے مواقع موجود رہتے ہیں۔ حتی کہ کوئی ملک اگر قدیم مکہ کی طرح اہل توحید کا مخالف بن جائے تب بھی وہ بدستور دار الدعوہ بنارہے گا۔ کسی ملک کی کوئی بھی حالت اس کی دار الدعوہ کی حیثیت کو ختم نہیں کرتی، جیسا کہ قرآن میں انبیاء کی تاریخ سے ثابت ہوتا ہے۔

اس لیے صحیح بات یہ ہے کہ ساری دنیا انسانی قیام گاہ کے اعتبار سے دار الانسان ہے اور اسلامی مشن کے اعتبار سے دار الدعوہ ۔ جن ملکوں کو دار الاسلام کہا جاتا ہے وہ اپنی حقیقت کے اعتبار سے دار المسلمین تو ہو سکتے ہیں مگر دار الاسلام نہیں۔

قرآن میں پیغمبر کو ناصح (الاعراف ۶۸) کہا گیا ہے۔ یعنی اپنی مخاطب قوم کا خیر خواہ۔ گویا پیغمبر ناصح (خیر خواہ) ہے اور اس کی مخاطب قوم منموح ہے۔ یعنی وہ لوگ جن کی خیر خواہی کی جائے۔ اسی تعلق کو قرآن میں شاہد اور مشہود (البروج (۳) کہا گیا ہے۔ اس تعلق کو دوسرے الفاظ میں داعی اور مدعو کہہ سکتے ہیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of April 2005 All issues

Printed page