نکاح اور طلاق
الرسالہ، اپریل ۲۰۰۵، صفحہ ۳۸
خوف سے ایک مجلس میں تین طلاق دینے کا طریقہ چھوڑ دیا۔
موجودہ زمانہ میں، خاص طور پر برصغیر ہند میں، یہ طریقہ دوبارہ پھیل گیا ہے ۔ لوگ غصہ میں آتے ہی فوراً طلاق طلاق طلاق کہہ دیتے ہیں ۔ وہ ایک ہی مجلس میں اپنی بیوی کو تین طلاق دے دیتے ہیں جو شرعی قانون کا غلط استعمال ہے اور وہ شوہر کے لیے سخت گناہ کی حیثیت رکھتا ہے۔ موجودہ زمانہ میں یہ صورت بہت عام ہوگئی ہے اور ضروری ہو گیا ہے کہ اس معاملہ میں شریعت کا واضح حکم متعین کیا جائے ۔
راقم الحروف کے نزدیک موجودہ حالت میں اس معاملہ میں ہمارے لیے دو میں سے ایک طریقہ کا انتخاب ہے ۔ ایک یہ کہ جب ایک شخص فوری جذبہ کے تحت طلاق طلاق طلاق کہہ دے تو اس کو شوہر کی طرف سے غصہ پر محمول کیا جائے ۔ یعنی یہ سمجھا جائے کہ شوہر نے شدت اظہار کے طور پر اپنی بیوی کو ایک ہی مجلس میں تین طلاق دے دی ۔ حالاں کہ اس کا مقصد تکمیلی طلاق دینا نہ تھا بلکہ صرف طلاق دینے کے ارادے کا شدید انداز میں اظہار کرنا تھا، یہ تہدید و تشدید کا معاملہ تھا، نہ کہ حقیقتاً تطلیق ثلاثہ کا معاملہ۔
اس صورت میں یہ کیا جائے گا کہ شوہر سے یہ کہا جائے گا کہ تمہاری تین طلاق عملاً پہلے مہینہ کی ایک طلاق قرار دی جاتی ہے۔ اب تم کو یہ اختیار ہے کہ چاہے تو رجوع کر لو اور اگر تم تفریق کے ارادہ پر قائم ہو تو قرآنی طریقہ کے مطابق، اگلے مہینہ تم دوسرا طلاق دو۔ اور اگر اس کے بعد بھی تفریق کا ارادہ باقی رہے تو تیسرے مہینہ تم طلاق کے عمل کی تکمیل کر کے اپنی بیوی سے علیحدگی اختیار کر سکتے ہو۔ اس معاملہ میں دوسرا ممکن طریقہ ہمارے لیے یہ ہے کہ ہم سنت فاروقی کو اپنے زمانہ کے لحاظ سے اختیار کریں۔ یعنی ایک مجلس کی تین طلاق کو تین طلاق قرار دے کر عورت اور مرد کے درمیان تفریق کرا دیں۔ مگر اس صورت میں لازمی طور پر ہمیں سنت فاروقی کے مطابق یہ کرنا ہوگا کہ اس مزاج کی حوصلہ شکنی کے لیے شوہر کو سخت سزا دیں۔
موجودہ قانونی نظام کے تحت غالباً یہ ممکن نہیں کہ ایسے شوہر کو کوڑے مارنے کی سزا دی جائے۔ مگر
‹ Previous page Next page › Contents of April 2005 All issues