نکاح اور طلاق
الرسالہ، اپریل ۲۰۰۵، صفحہ ۳۷
کے ارادہ پر قائم ہو تو اگلے مہینہ دوبارہ وہ کہے کہ میں نے تم کو دوسرا طلاقیں دیا۔ یہ دونوں طلاق رجعی شمار ہوں گی۔ یعنی شوہر کو حق ہوگا کہ وہ دو ماہ کی اس مدت کے دوران اپنی طلاق واپس لے لے۔ تیسرا مہینہ آنے کے بعد اگر اس نے تیسری بار کہہ دیا کہ میں نے تم کو تیسرا طلاق دیا تو رجوع کی مہلت ختم ہو جائے گی۔ اب دونوں کے درمیان شوہر اور بیوی کی حیثیت باقی نہیں رہے گی۔
تین مہینہ کے درمیان تکمیل طلاق کا یہ طریقہ اس لیے رکھا گیا ہے تا کہ اگر وقتی غصہ کے تحت شوہر نے طلاق کا ارادہ کیا ہے تو غصہ ٹھنڈا ہونے کے بعد وہ دوبارہ اپنے ازدواجی تعلق کو بحال کر لے اور اگر اس کا ارادہ غیر جذباتی تھا اور تیسرے مہینہ بھی وہ اپنے ارادہ پر قائم ہے تو تیسرے مہینہ میں وہ طلاق کی تکمیل کر کے مکمل علیحدگی اختیار کر لے۔
اسلام کے دور اول میں طلاق کے اسی فطری طریقہ پر عمل تھا۔ خلیفہ اول کے آخری زمانہ میں بعض مسلمانوں نے ایسا کیا کہ انہوں نے غصہ کے تحت ایک ہی بار میں اپنی بیوی کو تین طلاق دے دی۔ یعنی ایک ہی مجلس میں کہہ دیا کہ تم کو طلاق، طلاق، طلاق۔ مگر اس وقت تک یہ معاملہ بہت استثنائی اور انفرادی تھا۔ خلیفہ ثانی عمر فاروق کی خلافت کے نصف آخر میں ایک مجلس میں تین طلاق کے واقعات زیادہ ہونے لگے۔
اب حضرت عمر فاروق نے خلیفہ کی حیثیت سے یہ فیصلہ کیا کہ ایسا طریقہ اختیار کیا جائے جو قانون کے اس غلط استعمال پر روک لگائے۔ چنانچہ انہوں نے بعض افراد کے ساتھ ایسا کیا کہ انہوں نے ایک مجلس میں تین طلاق دیا تو خلیفہ دوم نے ان کے طلاق کو واقع کر کے شوہر اور بیوی کے درمیان تفریق کرا دی۔ مگر اسی کے ساتھ انہوں نے یہ بھی کیا کہ شوہر کی پیٹھ پر کوڑے مار کر اس کو زخمی کر دیا (ثم اوجع ظهره)۔
خلیفہ دوم کا یہ عمل کوئی منصوص حکم نہ تھا بلکہ وہ ایک انتظامی حکم (executive order) تھا۔ یعنی اس کی حیثیت یہ تھی کہ حاکم وقت نے اپنے اختیار کے مطابق، مرد کو ایک تنبیہی سزا دی۔ اس سزا کا مقصد یہ تھا کہ ایک مجلس میں تین طلاق کی سخت حوصلہ شکنی کی جائے۔ چنانچہ عملاً یہی ہوا۔ لوگوں نے سزا کے
‹ Previous page Next page › Contents of April 2005 All issues