Al-Risala · April 2005 · page 40

ذرا نم ہو تو یہ مٹی بہت زرخیز ہے ساقی

الرسالہ، اپریل ۲۰۰۵، صفحہ ۴۰

ایک خط

برادر محترم جسٹس ایم ایم قاضی السلام علیکم ورحمۃ اللہ ۱۰ دسمبر ۲۰۰۴ کی شام کو آپ سے ٹیلی فون پر گفتگو ہوئی۔ آپ نے مسلمانوں کی حالت کے بارے میں اپنی درد مندی کا ذکر کیا۔ آپ جانتے ہیں کہ اقبال موجودہ مسلمانوں کے بارے میں پہلے بہت خوش فہم تھے، انہوں نے لکھا:

ذرا نم ہو تو یہ مٹی بہت زرخیز ہے ساقی

مگر بعد کو اقبال نے موجودہ مسلمانوں کے بارے میں یہ شعر تحریر کیا: تیرے محیط میں کہیں جو ہر زندگی نہیں ڈھونڈ چکا میں موج موج دیکھ چکا صدف صدف اصل یہ ہے کہ موجودہ مسلمان فطرت کے قانون کے مطابق اپنے دورِ زوال میں ہیں۔ قرآن سے معلوم ہوتا ہے کہ کسی شخص یا گروہ کے اسلام کا آغاز حق کی معرفت (المائدہ ۸۳) سے ہوتا ہے۔ پھر بعد کی نسلوں میں اس کا زوال (degeneration) شروع ہو جاتا ہے۔ یہاں تک کہ وہ حالت آجاتی ہے جس کو قرآن میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: فطال علیهم الأمد فقست قلوبهم (الحدید ۱۶) یعنی لمبی مدت گزرنے پر بعد کی نسلوں میں قساوت پیدا ہو جانا۔ یہ قساوت کیا ہے۔ یہ وہی چیز ہے جس کو یہود کی زبان سے دوسرے مقام پر غلف (البقرۃ ۸۸) کہا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے دلوں پر غلاف ہے:

And they say: Our heart are covered

عقل پر غلاف ہونا کیا ہے۔ یہ دوسرے لفظوں میں ذہنی جمود (intellectual stagnation) کا معاملہ ہے۔ جب ایسا ہوتا ہے تو وہ حالت پیدا ہوتی ہے جس کو انگریزی میں کنڈ یشننگ (conditioning) کہا جاتا ہے۔ حدیث میں آیا ہے کہ: کل مولود يولد علی الفطرة فابواه

‹ Previous page Next page › Contents of April 2005 All issues

Printed page