And they say: Our heart are covered
الرسالہ، اپریل ۲۰۰۵، صفحہ ۴۱
یہودانہ او ینصرانہ او یمجسانہ (ہر پیدا ہونے والا فطرت پر پیدا ہوتا ہے۔ پھر اس کے ماں باپ اس کو یہودی یا نصرانی یا مجوسی بنا دیتے ہیں)۔
اس حدیث میں یہودی یا مسیحی یا مجوسی کا لفظ حصر کے معنی میں نہیں ہے بلکہ وہ علامتی معنی میں ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جب کوئی انسان پیدا ہوتا ہے تو وہ خدائی فطرت پر ہوتا ہے۔ مگر اس کا گھر، اس کا ماحول، اس کا معاشرہ، اس کے ادارے، اس کے ذہن کو متاثر کرتے رہتے ہیں۔ یہاں تک کہ ایسا ہوتا ہے کہ اس کے ذہن کے اوپر پیاز کی طرح پردے پڑ جاتے ہیں۔ وہ اس قابل نہیں رہتا کہ وہ بے آمیز انداز میں یا فطرت ربانی کے انداز میں سوچ سکے۔ اس طرح ہر انسان کنڈیشننگ کا ایک کیس ہے۔ جب تک اس کنڈیشننگ کو ختم نہ کیا جائے اس وقت تک وہ اس قابل نہیں ہوتا کہ وہ چیزوں کو صحیح رخ سے دیکھ سکے۔
تصحیح ذہن کے اس عمل کو ڈی کنڈیشننگ (de-conditioning) کہا جا سکتا ہے۔ یہ ڈی کنڈیشننگ ہر انسان کی ایک لازمی ضرورت ہے۔ غالباً اسی ڈی کنڈیشننگ کے عمل کو قرآن میں تزکیہ کہا گیا ہے۔ حدیث میں آیا ہے کہ: ان اللہ یبعث علی راس کل مائة سنة من يجدد لها دينها (اللہ ہر سو سال کے سرے پر امت میں ایک شخص کو بھیجے گا جو اس کے لیے اس کے دین کی تجدید کرے گا)۔ میرے نزدیک یہاں تجدید سے مراد ابتدائی طور پر یہی ڈی کنڈیشننگ ہے۔ یعنی ہر اگلی نسل میں جب کہ لوگوں کے ذہن میں کنڈیشننگ کا مسئلہ پیدا ہوگا اور اس کی وجہ سے دین فطرت ان کے لیے اجنبی بن جائے گا تو اس وقت خدا ایسے مجدد پیدا کرے گا جو لوگوں کے ذہن سے مصنوعی پردے ہٹائے اور ان کو اس قابل بنائے کہ وہ دین کو اس کے بے آمیز روپ میں دیکھ سکیں۔
پچھلے سو سال کے درمیان مسلمانوں میں بہت سے ایسے لوگ پیدا ہوئے جنہوں نے اپنے خیال کے مطابق، مسلم ملت کے احیاء نو کا کام کرنے کی کوشش کی۔ مگر یہ ساری کوششیں بے نتیجہ ثابت ہوئیں۔ اس کا بنیادی سبب یہ تھا کہ ان لوگوں نے اپنا کام اس مفروضہ کے تحت شروع کیا کہ مسلم ملت بالفعل موجود ہے اور اب ان کو صرف یہ کرنا ہے کہ وہ اس ملت کو جوش دلا کر اس کو اقدام پر آمادہ کریں۔
‹ Previous page Next page › Contents of April 2005 All issues