خبر نامه اسلامی مرکز ۱۶۸
الرسالہ، اپریل ۲۰۰۵، صفحہ ۴۶
کیا جائے اور صلح کے اصول کو اپنایا جائے ۔ اس پر حاضرین میں سے ایک صاحب نے کہا کہ یہ مسئلہ بہت پیچیدہ مسئلہ ہے۔ قرآن کا سادہ فارمولا اس کے حل کے لیے کافی نہیں۔ اس سوال کا تفصیل سے جواب دیا گیا۔ ۵۔ ای ٹی وی (نئی دہلی) کی ٹیم نے ۲۵ دسمبر ۲۰۰۳ کو صدر اسلامی مرکز کا انٹرویو ریکارڈ کیا۔ سوالات کا تعلق مجوزہ ماڈل نکاح نامہ کے مسئلہ سے تھا۔ جواب میں بتایا گیا کہ موجودہ حالت میں یہ ایک بے فائدہ کام ہے۔ کیوں کہ کوئی بھی ماڈل نکاح نامہ موجودہ حالت میں عملاً چلنے والا نہیں۔ اس قسم کا ماڈل نکاح نامہ دو صورت میں چل سکتا ہے۔ ایک یہ کہ اس کے پیچھے سیاسی اقتدار کی طاقت ہو۔ ظاہر ہے کہ یہاں وہ موجود نہیں ۔ دوسری چیز ہے، سماجی آمادگی۔ اس وقت مسلم سماج اتنی زیادہ انتشار کی حالت میں ہے کہ وہ کسی ماڈل نکاح نامہ کو عمومی طور پر قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہو سکتا۔ ایسی حالت میں کرنے والوں کو وہ کام کرنا چاہیے جو نتیجہ خیز ہو۔ مثلا مسلم سماج کے اندر شعوری بیداری لانا۔
۶۔ جین ٹی وی (نئی دہلی) کی ٹیم نے ۲۶ دسمبر ۲۰۰۳ کو صدر اسلامی مرکز کا ویڈیو انٹرویو ریکارڈ کیا۔ سوالات کا تعلق ماڈل نکاح نامہ سے تھا۔ جوابات کا خلاصہ یہ تھا کہ اس قسم کا ماڈل نکاح نامہ صرف ایک کاغذی کارروائی ہے، وہ کبھی عمل میں آنے والا نہیں۔ عمل میں آنے کی ایک صورت یہ ہے کہ اس کی پشت پر سیاسی طاقت ہو جو کہ اس وقت موجود نہیں۔ دوسری صورت یہ ہے کہ مسلم معاشرہ رضا کارانہ طور پر اس کو قبول کرنے کے لیے تیار ہو۔ اور یہ دوسری شرط بھی اس وقت معاشرہ کے اندر نہیں پائی جاتی۔ ایسی حالت میں یہ ہوگا کہ ماڈل نکاح نامہ عملاً رائج تو نہ ہوگا۔ البتہ بے فائدہ قسم کی اختلافی بحثوں کا ایک نیا دروازہ کھل جائے گا۔
۷۔ اسلامی مرکز کے تحت ہونے والے ہفتہ وار کلاس (۳۱ دسمبر ۲۰۰۳) میں دوسرے حضرات کے علاوہ پروفیسر عبد اللہ احمد النعیم شریک ہوئے ۔ وہ سوڈان میں پیدا ہوئے۔ اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے بعد اب وہ امریکا کی ایک یونیورسٹی میں پروفیسر ہیں۔ اُن کی خواہش کے مطابق، اس موقع پر اسلام اور سیاست کو موضوع بنایا گیا ۔ صدر اسلامی مرکز نے تفصیل کے ساتھ بتایا کہ اسلام میں سیاست کا درجہ کیا ہے ۔ پروفیسر موصوف پوری طرح مطمئن ہوئے۔ گفتگو کا خلاصہ یہ تھا کہ اسلام کا نشانہ اسلامائزیشن آف مین ہے نہ کہ اسلامائزیشن آف اسٹیٹ ۔ انہوں نے اس سے پورا اتفاق کیا۔ پروفیسر موصوف کو کئی عربی اور انگریزی کتابیں ہدیہ میں دی گئیں۔ ۸۔ ایک کانفرنس میں شرکت کے لیے کیرلا (کوچن) کا سفر ہوا۔ یہ پروگرام جنوری ۲۰۰۵ کے پہلے ہفتہ میں تھا۔ اس کا موضوع تھا۔ امن اور روحانیت۔ اس سفر کی روداد انشاء اللہ الرسالہ میں سفرنامہ کے تحت شائع کر دی جائے گی۔
۹۔ چند نئی کتابیں زیرطبع ہیں ۔ حکمتِ اسلام، نشانِ منزل، وغیرہ۔ چھپ کر تیار ہونے کی اطلاع بعد کو دی جائے گی۔
‹ Previous page Next page › Contents of April 2005 All issues