خبر نامه اسلامی مرکز ۱۶۸
الرسالہ، اپریل ۲۰۰۵، صفحہ ۴۵
خبر نامه اسلامی مرکز ۱۶۸
۱۔ بی بی سی لندن کے نمائندہ مسٹر داؤد اعظمی افغانی نے ٹیلیفون پر صدر اسلامی مرکز کا تفصیلی انٹرویو لیا۔ یہ انٹرویو ۱۶ دسمبر ۲۰۰۲ کو ریکارڈ کیا گیا۔ روس نے ۲۵ دسمبر ۱۹۷۹ کو افغانستان میں اپنی فوجیں داخل کر دی تھیں۔ اس کے بعد روسی فوجوں اور افغانی مجاہدین کے درمیان لمبی لڑائی ہوئی۔ آخر کار روسی فوج کو واپس جانا پڑا۔ سوالات کا تعلق زیادہ تر اسی مسئلہ سے تھا۔ جوابات کا خلاصہ یہ تھا کہ روس کے خلاف افغانیوں کی جنگ ایک قومی جنگ تھی، وہ اسلامی جہاد نہ تھا۔ اسی طرح طالبان نے افغانستان میں جو اسلامی حکومت قائم کی وہ بھی اسلامی حکومت نہ تھی بلکہ ایک قسم کی قبائلی حکومت تھی۔ افغانیوں کی اصل کمزوری یہ ہے کہ وہ کسی سیاسی نظام کی ماتحتی قبول نہیں کرتے۔ اس وجہ سے وہ بار بار خود اپنے حکمرانوں سے لڑتے رہے ہیں۔ اسی مزاج کی بنا پر افغانی سردار آپس میں ایک دوسرے سے لڑتے رہتے ہیں۔ افغانی قوم اپنے روایتی مزاج کے اعتبار سے ایک جنگجو قوم ہے۔ روس کے خلاف یا امریکہ کے خلاف افغانیوں کی جنگ اسی جنگ جوئی کے مزاج کا نتیجہ تھی، وہ اسلامی اسپرٹ کا نتیجہ نہ تھی۔ یہی وجہ ہے کہ لمبی لڑائیوں کے باوجود افغانستان کو اس کا کوئی مثبت نتیجہ نہیں ملا۔ افغانیوں کی سب سے بڑی ضرورت یہ ہے کہ انہیں تعلیم یافتہ بنایا جائے ۔
۲۔ پر بھات پرکاشن (نئی دہلی) کے زیراہتمام ۲۲ پور میں ۱۸-۱۹ دسمبر ۲۰۰۳ کو ایک عوامی پروگرام ہوا جس میں ہندو۔ مسلمان دونوں بڑی تعداد میں شریک ہوئے۔ صدر اسلامی مرکز نے اس کی دعوت پر اس میں شرکت کی ۔ اس کی رپورٹ سفر نامہ کے تحت ماہنامہ الرسالہ میں شائع کر دی جائے گی۔
۳۔ اخبار سہارا سے (نئی دہلی) کے نمائندہ مسٹر سنیل کمار نے ۲۰ دسمبر ۲۰۰۳ کو صدر اسلامی مرکز کا تفصیلی انٹرویو لیا۔ اس میں ۱۹۷۳ سے لے کر اب تک کے دور میں مسلم مسائل پر اظہار خیال کیا ہے۔ ایک سوال کے جواب میں بتایا گیا کہ ۱۹۷۳ کے بعد کچھ دنوں تک مسلمانوں کے درمیان تعطل کی فضا تھی۔ اب پچھلے برسوں سے مسلمان کافی بیدار ہو گئے ہیں۔ ان کے اندر حقیقت پسندانہ سوچ آئی ہے۔ اب وہ ہر شعبہ میں تیزی سے ترقی کر رہے ہیں۔ ۴۔ ہمدرد یونیورسٹی (نئی دہلی) کے بورڈ روم میں ۲۱ دسمبر ۲۰۰۳ کو ایک اجتماع ہوا جس میں یونیورسٹی کے وائس چانسلر اور پروفیسر حضرات شریک ہوئے ۔ پروگرام کے مطابق، امریکہ کے ایک سینئر پروفیسر تھیوڈور رائٹ (Theodore P. Wright) کا یہ مقالہ ویسٹ ایشیا میں امریکی پالیسی سے متعلق تھا۔ اس کا ٹائٹل یہ تھا : U.S. Intervention in South Asia and the Middle East اس کی دعوت پر صدر اسلامی مرکز نے اس میں شرکت کی۔ وہاں ایک سوال یہ اٹھایا گیا کہ اسرائیل اور فلسطین کے درمیان جو مسئلہ ہے اس کا حل کیا ہے۔ اس پر اظہار خیال کرتے ہوئے صدر اسلامی مرکز نے کہا کہ اس کا حل قرآن و حدیث میں موجود ہے۔ اس کے مطابق ، اس مسئلہ کا حل یہ ہے کہ پر تشدد طریقہ کار کو چھوڑ کر پر امن طریق کار کو اختیار
‹ Previous page Next page › Contents of April 2005 All issues