گھریلو جھگڑے
الرسالہ، مئی ۲۰۰۵، صفحہ ۱۸
اصل یہ ہے کہ جب کچھ لوگ مل جل کر رہتے ہیں تو لازمی طور پر ان کے درمیان کچھ خلاف مزاج واقعات ہوتے رہتے ہیں۔ ان باتوں کو لے کر دوسروں سے لڑنا یا جھگڑ نا مسئلہ کا حل نہیں۔ کیوں کہ اس قسم کا اختلاف ایک فطری امر ہے اور جو چیز فطری امر کی حیثیت رکھتی ہو اس کو مٹانا کسی کے لیے بھی ممکن نہیں۔ اس طرح کے مسائل کا حل صبر واعراض ہے نہ کہ ان کو لے کر لڑنا، جھگڑ نا۔ مزید یہ کہ اس طرح کی باتوں پر آدمی کے اندر جو غصہ بھڑکتا ہے وہ ہمیشہ وقتی ہوتا ہے، وہ آخر کار ختم ہو جانے والا ہے۔ ایسی حالت میں بہترین طریقہ یہ ہے کہ آدمی ایسی بات پیش آنے کے موقع پر دومنٹ کے لیے چپ رہے، وہ رد عمل کے بجائے صبر کا طریقہ اختیار کر لے۔ اگر وہ ایسا کرے تو چند منٹ کے بعد اس کا غصہ ختم ہو جائے گا اور وہ اسی طرح ایک معتدل انسان بن جائے گا جس طرح وہ واقعہ سے پہلے ایک معتدل انسان نظر آتا تھا۔
اس معاملہ کا سب سے زیادہ اہم پہلو یہ ہے کہ ہر آدمی کے اندر کچھ مائنس پوائنٹ ہوتے ہیں اور کچھ پلس پوائنٹ ہوتے ہیں۔ کوئی بھی مرد یا عورت اس سے خالی نہیں۔ جب کسی آدمی کو غصہ آجائے تو یہ ہوتا ہے کہ وہ فریق ثانی کے پلس پوائنٹ کو بھول جاتا ہے۔ اس کو اس وقت فریق ثانی کا صرف مائنس پوائنٹ یاد رہتا ہے۔ یہی ذہنی حالت آدمی کو غیر معتدل بنا دیتی ہے۔ وہ ایسی روش اختیار کرلیتا ہے جس کو وہ معتدل حالت میں اختیار کرنے والا نہ تھا۔
ایسی حالت میں اس مسئلہ کا فطری حل یہ ہے کہ جب بھی کسی کے اندر دوسرے کے خلاف اشتعال پیدا ہو تو وہ اپنے آپ کو کنٹرول کر کے غیر جانب دارانہ انداز میں سوچے ۔ وہ فریق ثانی کے پلس پوائنٹ کو سوچے یا اس کی شخصیت کے مثبت پہلوؤں کو یاد کرے ۔ ایسا کرتے ہی یہ ہوگا کہ اس کا انتقامی جوش ٹھنڈا پڑ جائے گا۔ یہاں تک کہ وہ خود اپنے آپ کو ملامت کرے گا کہ میں نے ایک شخص کے 99 پہلوؤں کو بھلا دیا اور اس کی شخصیت کے ایک پہلو کو لے کر اس کے خلاف بھڑک اٹھا۔ خاندان میں بگاڑ ہمیشہ کسی چھوٹی بات پر شروع ہوتا ہے۔ اگر شروع ہی میں اُس پر قابو پالیا جائے تو کبھی کوئی مسئلہ بڑا مسئلہ نہ بنے۔