Al-Risala · May 2005 · page 19

تعلیم کی طرف

الرسالہ، مئی ۲۰۰۵، صفحہ ۱۹

تعلیم کی طرف

بی بی سی لندن کے اردو شعبہ کی ایک ٹیم نے انڈیا کی ریاست گجرات کا دورہ کیا۔ وہاں اس نے خاص طور پر گجرات کے مسلمانوں سے ملاقات کی اور اس موضوع پر ایک رپورٹ تیار کی۔ اس رپورٹ کا ایک حصہ میں نے ۲۲ جولائی ۲۰۰۴ کو بی بی سی لندن کے نشر یہ میں سنا۔ اس نشر یہ میں بتایا گیا تھا کہ ریاست میں پچھلے فرقہ وارانہ فساد فروری - مارچ ۲۰۰۲ کے بعد گجرات کے مسلمانوں میں بڑے پیمانہ پر ایک نیا رجحان پیدا ہوا ہے ۔ اب یہاں کا ہر مسلمان تعلیم کے بارے میں سوچتا ہے۔ ہر ایک یہ کہہ رہا ہے کہ اپنے بچوں کو پڑھاؤ۔

یہ ایک نیا رجحان ہے۔ ۱۹۴۷ کے بعد ہندوستانی مسلمانوں میں مسلسل طور پر ایک ہی ذہن پایا جارہا تھا ۔ وہ تھا شکایت اور احتجاج اور تشدد کا جواب تشدد سے دینا ۔ نصف صدی سے زیادہ مدت کے تجربہ کے بعد یہ نظریہ ناکام ثابت ہوا۔ اب پہلی بار مسلمانوں میں یہ طرزِ فکر پیدا ہوا ہے کہ جوابی ذہن کے تحت سوچنا اور ماضی کے تلخ تجربوں میں جینا ایک بے فائدہ کام ہے۔ اب وہ پہلی بار پیچھے کو بھلا کر آگے کی طرف سوچ رہے ہیں ۔ وہ انتقام کے بجائے تعمیر کا نظریہ اپنا رہے ہیں ۔ اس جدید رجحان کو ایک جملہ میں اس طرح بیان کیا جاسکتا ہے: ماضی کو بھلاؤ، بچوں کو پڑھاؤ۔

۱۹۴۷ کے بعد پیش آنے والے ناخوش گوار واقعات کے نتیجہ میں تمام ہندوستانی مسلمان ردعمل کی نفسیات کے شکار ہو گئے تھے۔ راقم الحروف نے پہلی بار مسلمانوں کو یہ بتانا شروع کیا کہ زندگی کا راز مثبت سوچ میں ہے نہ کہ منفی سوچ میں ۔ ۱۹۶۵ میں یہ کوشش میں نے لکھنو کے ہفت روزہ ندائے ملت کے ذریعہ شروع کی۔ اس کے بعد ۱۹۶۷ سے یہ کام دہلی کے ہفت روزہ الجمعیۃ کے ذریعہ جاری رہا۔ اس کے بعد ۱۹۷۶ میں میں نے دہلی سے ماہنامہ الرسالہ جاری کیا اور زیادہ منظم انداز میں اس کام کو کرنے لگا۔ اس کے علاوہ ملک کے مختلف اخبارات اور جرائد میں مسلسل اس کی تائید میں مضامین شائع کیے۔ پورے ملک میں سفر کر کے جلسوں اور اجتماعات کی صورت میں اس مثبت پیغام کو مسلمانوں ہند تک پہنچایا۔

‹ Previous page Next page › Contents of May 2005 All issues

Printed page