یہ بدعت ہے
الرسالہ، مئی ۲۰۰۵، صفحہ ۲۲
اس طرح کی اور بھی کئی روایتیں کتابوں میں آئی ہیں۔ مثلاً ایک طویل روایت میں یہ الفاظ ہیں : وإياكم ومحدثات الأمور فإن كل محدثة بدعة و أن كل بدعة ضلالة ( صحيح مسلم، کتاب الجمعة، سنن ابی داؤد، کتاب السنة، سنن النسائی، کتاب العیدین، سنن ابن ماجہ، مقدمہ، سنن الدارمی، مقدمہ، مسند احمد) یعنی تم دین میں نئی چیز نکالنے سے بچو، کیوں کہ ہر نئی چیز گمراہی ہے۔ موجودہ زمانہ میں یہ عام رواج ہے کہ مقررین پر جوش تقریریں کرتے ہیں اور سامعین پر جوش تالیاں بجاتے ہیں۔ یہ طریقہ بھی بلاشبہ بدعت کی تعریف میں آتا ہے۔ یہ بھی انہی مہلک چیزوں میں سے ہے جس کو حدیث میں بدعت کہا گیا ہے۔ مزید یہ کہ یہ اضافہ بدعت حسنہ نہیں ہے بلکہ یہ بدعت سیئہ ہے۔ یہ سطحیت اور بے حسی کا مظاہرہ ہے جو خدا کے دین میں محمودنہیں۔ اکثر لوگوں کا احساس یہ ہوتا ہے کہ یہ تو چھوٹی چیزیں ہیں اور اس قسم کی چھوٹی چیزوں میں کوئی قباحت نہیں ہوتی۔ مگر یہ طرزِ فکر خود دینی اعتبار سے ایک ہلاکت خیز طرِ ز فکر ہے۔ حدیث میں آیا ہے کہ چھوٹے چھوٹے گناہوں سے بھی بچو ایاکم ومحقرات الذنوب ۔ ایک روایت کے مطابق، ایک صحابی نے بعد کے زمانہ کے لوگوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا: انكم لتعملون عملاً هي ادق فى اعينكم من الشعر، ان كنا لنعدها على عهد النبی صلى الله عليه وسلم من الموبقات ( صحيح البخاری، کتاب الرقاق، سنن الدارمی، کتاب الرقاق، مسند احمد) یعنی تم ایک ایسا عمل کرتے ہو جو عمل تمہاری نگاہوں میں بال سے بھی زیادہ ہلکا ہوتا ہے۔ مگر ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ایسی چیزوں کو تباہ کن عمل سمجھتے تھے۔
اصل یہ ہے کہ کسی عمل کے بُرا یا بھلا ہونے کا تعلق صرف اس کے ظاہر سے نہیں ہے بلکہ اس سے ہے کہ وہ کس جذبہ کے تحت کیا گیا۔ ایک بظاہر چھوٹا عمل اگر بے حسی اور آخرت فراموشی کے جذبہ سے کیا جائے تو وہ ایک بُرا عمل قرار پائے گا۔
مثلاً اسلام کے نام پر ایک اجتماع ہوتا ہے۔ اُس میں ایک مقرر شاندار تقریر کرتا ہے۔ پھر اُس کو سُن کر سامعین تالیاں بجاتے ہیں۔ بظاہر یہ ایک سادہ واقعہ معلوم ہوتا ہے۔ مگر اپنی حقیقت کے اعتبار