یہ بدعت ہے
الرسالہ، مئی ۲۰۰۵، صفحہ ۲۳
سے وہ کوئی سادہ واقعہ نہیں۔ جو مقرر شاندار تقریر کر رہا ہے وہ اپنی اس تقریر کے ذریعہ بتا رہا ہے کہ وہ احتساب خویش کی نفسیات سے خالی ہے۔ اس کو اس حقیقت کا شعور نہیں جس کو قرآن میں اس طرح بیان کیا گیا ہے: ما يلفظ من قول إلا لديه رقيب عتيد ۔ اُس کو یہ احساس نہیں کہ وہ اسٹیج پر کھڑا ہو کر جو الفاظ بول رہا ہے وہ انسانوں تک پہنچنے سے پہلے خداوندِ عالم تک پہنچ رہے ہیں۔ جو آدمی اس قسم کی نفسیات میں جی رہا ہو اس کی تقریر کا انداز بالکل بدل جائے گا۔ اُس کی زبان سے وہ الفاظ ہی نہیں نکلیں گے جس کو سن کر لوگ جوش میں آئیں اور تالیاں بجائیں۔ اس کی تقریر احساسِ ذمہ داری کو بڑھانے والی ہوگی، نہ کہ احساسِ فخر کو بڑھانے والی۔ رسول اور اصحابِ رسول کے زمانہ میں تقریر پر تالیاں نہیں بجائی جاتی تھیں ۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ ایسی بات ہی نہیں کرتے تھے جس کو سن کر لوگ جذبات میں آجائیں اور تالیاں بجائیں۔
یہی معاملہ سامعین کا ہے۔ سامعین کا تقریر کو سن کر تالیاں بجانا دراصل اس بات کا مظاہرہ ہے کہ اُن کا سینہ احساسِ ذمہ داری سے خالی ہے۔ اگر سامعین کا یہ حال ہو کہ وہ آخرت کی جواب دہی کے احساس میں جیتے ہوں تو مقرر کی ہر بات اُنہیں خدا اور رسول کی یاد دلائے گی۔ وہ ان کے اندر جنت اور جہنم کے بارہ میں دینی احساس کو بیدار کرے گی۔ مقرر کی بات ان کے ربانی احساسات کو جگائے گی۔ جو لوگ اس قسم کی نفسیات میں جیتے ہوں اُن کا ہاتھ کبھی تالیاں بجانے کے لیے نہیں اُٹھے گا۔ وہ اپنے آپ کو خدا کے حضور میں محسوس کرنے لگیں گے۔ ظاہر ہے کہ ایسے لوگ کبھی تالیاں نہیں بجا سکتے۔ مقرر کی تقریر اُن کو مجبور کرے گی کہ وہ اپنی ذمہ داریوں کو سوچیں، وہ اپنی کوتاہیوں کو سوچ کر آنسو بہائیں۔ ایسے لوگ کبھی اس قسم کا سطحی فعل نہیں کر سکتے جس کو تالیاں بجانا کہا جاتا ہے۔ سچی تقریر وہ ہے جو احتسابِ خویش (introspection) کا جذبہ ابھارے، جو آدمی کو خود اپنی اصلاح کے لیے فکر مند بنادے۔ جو آدمی کے اندر ذمہ داری کا احساس جگائے۔ اس کے برعکس وہ تقریر جھوٹی تقریر ہے جو آدمی کے اندر فخر یا احتجاج کا جذبہ ابھارے۔ ایسے مقررین کے لیے زیادہ بہتر یہ ہے کہ وہ چپ رہیں، نہ کہ بے فائدہ طور پر اسٹیج سے اپنے لفظی کرتب کا مظاہرہ کریں۔