ناشکری کا فتنہ
الرسالہ، مئی ۲۰۰۵، صفحہ ۲۵
موجود ہیں جو اپنے آپ کو ہندوستانی مسلمانوں کا نمائندہ بتاتے ہیں۔ آپ ان نمائندہ جماعتوں اور اداروں کا سروے کیجئے اور دیکھئے کہ آج ۱۹۴۷ کے مقابلہ میں ان کی حالت کیا ہے۔ مثلاً تبلیغی جماعت، جمعیۃ علمائے ہند، جماعت اسلامی ہند، دارالعلوم ندوۃ العلماء، لکھنو، دارالعلوم، دیوبند، جامعہ دار السلام، عمر آباد، مدرسۃ الاصلاح، اعظم گڑھ، وغیرہ۔ میں ذاتی طور پر جانتا ہوں اور آپ بھی تحقیق کے ذریعہ معلوم کر سکتے ہیں کہ یہ جماعتیں اور ادارے ۱۹۴۷ میں بالکل معمولی حالت میں تھے۔ آج ان کو دیکھئے تو معلوم ہوگا کہ اب وہ کم از کم سو گنا زیادہ ترقی کر چکے ہیں۔ مالیات، بلڈنگ، کار، ٹیلی فون اور دوسری سہولتیں جو ۱۹۴۷ میں ان میں سے کسی کے پاس موجود نہ تھیں، آج ان میں سے ہر ایک کے پاس اس قسم کی سہولتیں وافر مقدار میں موجود ہیں۔ ایسی حالت میں پسماندگی کی بات کہنا صرف ناشکری کی زبان بولنا ہے نہ کہ حقیقت واقعہ کا اظہار۔
ہندوستان میں روزنامہ دینک جاگرن کے سروے کے مطابق، اس وقت ۲۲ کروڑ مسلمان موجود ہیں۔ یہ صحیح ہے کہ ان میں سے ہر شخص یکساں درجہ میں خوش حال نہیں۔ ان میں سے کسی کے پاس زیادہ ہے اور کسی کے پاس کم۔ مگر اس فرق یا نابرابری کا تعلق کسی ملک یا حکومت سے نہیں۔ یہ فرق تمام تر فطرت کے قانون کی بنا پر ہے۔ وہ خود خالق کے تخلیقی نقشہ کے مطابق ہے۔ اس بنا پر یہ فرق مسلمانوں میں اور دوسری قوموں میں ہمیشہ رہا ہے اور ہمیشہ باقی رہے گا۔
اسلام کے پانچ ارکان میں سے ایک رکن زکوۃ ہے۔ زکوۃ و صدقات کے بارے میں پیغمبر اسلام نے فرمایا ہے کہ: تؤخذ من اغنیاء کم و ترد إلى فقرائکم (صدقات تمہارے امیروں سے لیے جاتے ہیں اور وہ تمہارے غریبوں کی طرف لوٹا دیئے جاتے ہیں)۔ اس شرعی حکم کے مطابق ، سماج میں ہمیشہ امیر اور غریب دونوں قسم کے لوگ موجود رہتے ہیں۔ فرق کی یہ حالت پیغمبر اسلام کے بنائے ہوئے نظام میں بھی موجود تھی ۔ اس کے بعد خلافت راشدہ، اموی سلطنت، عباسی سلطنت، فاطمی سلطنت، ایوبی سلطنت، مغل سلطنت، عثمانی سلطنت اور اپینی سلطنت، غرض ہر دور میں یہ صورت حال موجود رہی ۔ ایسا کبھی نہیں ہوا کہ علمائے اسلام نے اعلان کیا ہو کہ اب سماج میں فقراء باقی